How was Ramesh caught?

انڈیا میں بھونیشور پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے، جنھوں نے اپنے آپ کو کبھی ڈاکٹر اور کبھی مرکزی وزارت صحت کا سینئیر افسر ظاہر کر کے 17 خواتین کو دھوکہ دہی سے اپنے جال میں پھنسایا اور کروڑوں لوٹے۔

66 برس کے رمیش چندر سوین کو اتوار کی رات دیر گئے بھونیشور میں ایک اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا اور پیر کو مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ نے انھیں عدالتی تحویل میں بھیجنے کا فیصلہ سُنایا۔

رمیش پر انڈیا کی آٹھ ریاستوں میں 17 خواتین سے دھوکہ دہی کے ذریعے شادی کرنے اور اُن سے پیسے بٹورنے کا الزام ہے۔ ان 17 خواتین کا تعلق اڑیسہ، آسام، دلی، مدھیہ پردیش، پنجاب، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ سے ہے۔

بھونیشور کے ڈی سی پی اوماشنکر داس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ان 17 خواتین کے علاوہ رمیش نے کئی اور خواتین کو بھی اپنے جال میں پھنسایا ہو۔

 رمیش کی گرفتاری کے بعد 17 میں سے تین خواتین کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔

ان تینوں میں سے ایک اڑیسہ، ایک چھتیس گڑھ اور ایک آسام سے ہیں اور تینوں نے اعلیٰ تعلیم مکمل کر رکھی ہے۔ 

اب پولیس کی حراست میں ملزم سے پوچھ گچھ کر کے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا ان 17 خواتین کے علاوہ اس نے کہیں کسی اور عورت کو بھی تو اپنے جال میں نہیں پھنسایا؟

 کے خواتین کے تھانے کی انچارج کی قیادت میں تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے تاکہ ریمانڈ کے دوران ملزم سے اس کے مبینہ جرائم کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

 ملزم کے فون کو فارنزک کے لیے بھجوا دیا گیا ہے اور اس کے مالی لین دین کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

شادی

اڑیسہ کے کیندرپارا ضلع کے پٹکورا کے رہنے والے رمیش چندر کی پہلی شادی سنہ 1982 میں ہوئی تھی۔ پہلی بیوی سے اُن کے تین بیٹے ہیں۔ تینوں ڈاکٹر ہیں اور بیرون ملک رہتے ہیں۔

سنہ 2002 میں اپنی پہلی شادی کے 20 سال بعد ملزم نے دھوکہ دہی سے ایک اور خاتون سے شادی کر لی تھی۔

 اُن کے جال میں پھنسی خاتون جھارکھنڈ کی رہنے والی تھیں اور اڑیسہ کے ساحلی شہر پارادیپ میں ایک نجی کمپنی کے زیر انتظام ہسپتال میں ڈاکٹر تھیں۔ کچھ دنوں کے بعد اس عورت کا تبادلہ الہٰ آباد ہو گیا، پھر رمیش وہاں گیا اور اس ’بیوی‘ کے ساتھ رہنے لگا اور درمیان میں اس سے پیسے اور زیورات لینے لگا۔

 اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق رمیش نے دلی کی اپنی ٹیچر بیوی سے 13 لاکھ روپے اور سینٹرل آرمڈ پولیس کی ایک خاتون افسر سے دس لاکھ روپے دھوکے سے لیے۔ پولیس ملزم کے دیگر دھوکہ دہی کے مقدمات کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔

خواتین کو لٹکانے کا طریقہ

پولیس تفتیش اور متاثرہ خواتین کے بیانات ظاہر کرے ہیں کہ ملزم رمیش اپنے شکار کا انتخاب بہت احتیاط سے کرتے تھے۔

اپنے شکار کی تلاش کے لیے وہ زیادہ تر ازدواجی رشتوں میں باندھنے والی سائٹس کا سہارا لیتا تھا۔

ملزم صرف ایسی خواتین کا انتخاب کرتا تھا، جن کی عمر بڑھنے کے باوجود شادی نہ ہوئی ہو یا جن کی طلاق ہو چکی ہو یا جو شوہر سے الگ ہو گئی ہوں۔

لیکن اپنے شکار کا فیصلہ کرتے وقت وہ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ خاتون یا تو سرکاری ملازم ہے یا وہ خاندانی طور پر امیر ہو۔

اپنا ہدف طے کرنے کے بعد رمیش ان سے رابطہ قائم کرتے۔ خواتین سے ملنے کے بعد وہ اپنی چرب زبانی اور مخصوص گفتگو سے ان کا اعتماد حاصل کر لیتا تھا۔ رمیش خود کو کبھی ڈاکٹر کے طور پر تو کبھی مرکزی وزارت صحت کے سینیئر افسر کے طور پر متعارف کرواتے تھے۔

ملزم نے اعتماد حاصل کرنے کے لیے متعدد جعلی شناختی کارڈ بھی بنا رکھے تھے۔

اس کے علاوہ وہ وزارت صحت کے جعلی خطوط بھی استعمال کرتے تھے۔ رمیش نے بدھو بھوشن سوین اور رمانی رنجن سوین کے نام پر جعلی شناختی کارڈ بنائے تھے، جو ان کی گرفتاری کے دوران ان کے کھنڈگیری فلیٹ سے برآمد ہوئے۔

رمیش ڈاکٹر نہیں ہیں لیکن انھوں نے کوچی سے پیرا میڈیکل، لیبارٹری ٹیکنالوجی اور فارمیسی کا ڈپلومہ کورس کیا، جس کی وجہ سے انھیں میڈیکل سائنس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات تھیں۔

یہ معلومات خواتین کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کی گئیں۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author

Hi, I'm Riaz Gillani, a professional writer and content creator with a passion for crafting engaging stories and articles. With a strong background in research and writing, I deliver high-quality content that resonates with audiences. Let's collaborate and create something amazing! ✍️