How to increase your self_esteem

انسان کے اندر اعتماد کی کمی کیلئے بہت سے مسائل ہو سکتے ہیں۔ ان مسائل کو انسان یا تو چھپانے کی کوشش کرتا ہے یا انکو نمٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور یہ نہیں کہ یہ مسائل صرف مجھے درپیش ہیں بلکہ ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی کمی ہے جس کے ساتھ وہ جیتا تو ہے لیکن اپنے ساتھ موجود اس کمی کو چھپاتا ہے۔ مثال کے طور میں یہاں چند مسائل کے بارے میں لکھنا چاہوں گی

1. گنجا پن

2. چھوٹا قد

3. بہت زیادہ یا بہت کم وزن

4. ہکلانا

5. میرے اپنے آپ پر یقین کی کمی

6. میرا کیریئر

اگر کم گنجے پن کے بارے میں بات کریں تو اگر کسی انسان کے ساتھ یہ مسئلہ ہو تو اس کیلئے اپنی زندگی کی سب سے بڑی حسرت یہ ہوگی کہ کاش میں خوبصورت بالوں والی شخصیت ہوتا۔

 وہ اپنی زندگی میں جتنے بھی لوگوں سے ملتا ہے جن کے بال خوبصورت ہوں وہ ان سے متاثر ہوتا ہے اور اس کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا۔

اور تب یہ احساس اس کے دل میں اور بھی زیادہ نمایاں ہوتا جب وہ دوستوں کے ساتھ کسی پول میں نہاتا اور جب بال نہ ہوتے تو اسے اور بھی شرمندگی کا احساس ہوتا۔ وہ اپنی اس کمی کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرتا لیکن چھپا نہیں پاتا کیونکہ سب ہی اس کی اس خامی کو جانتے تھے۔

 اسی طرح اگر ہم قد کی بات کریں تو جس کا قد چھوٹا ہوگا کہ وہ اپنے قرہبی رشتہ داروں اور دوستوں میں سب سے چھوٹا ہو اس وجہ سے وہ کبھی بھی اپنے اندر موجود اس کمی سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا اور یہی بات اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے وہ جب بھی اپنا اعتماد بحال کرتا ہے تو لوگ اسکو نیچا دکھاتے ہیں۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی حسرت یہ ہے کہ کاش میرا قد لمبا ہوتا۔ وہ اپنے اردگرد موجود لمبے قد کے لڑکوں سے حسد کرتا ہے اور انکو خوش نصیب سمجھتا ہے۔

پھر بہت سی فیلڈز میں وہ اپنے قد کی وجہ سے ناکام ہو گیا مثلا فٹ بال میں اسٹرائیکر نہیں بن سکتا کیونکہ اس کیلئے چھ فٹ قد ہونا ضروری ہے۔

 اس طرح یہ کمی ہمیشہ کسی نہ کسی طرح ناکامی کی صورت میں سامنے آجاتی۔ اگرچہ، لمبے لوگوں کی زندگی میں بھی اپنے مسائل ہو سکتے ہیں مگر اس شخص کو لگتا ہے کہ ہر لمبے قد والا انسان خوشگوار زندگی جیتا ہے۔ اسکو یہ نہیں معلوم کہ ہر کوئی اپنی خامیوں کے ساتھ بھی خوشگوار زندگی جی سکتا ہے کیونکہ یہ زندگی عطیہ ہے اسے جینا اس کا حق ہے۔

 اگر ہم وزن کی بات کریں تو جسکا وزن بہت کم ہے اسکی حسرت کس قدر معصوم ہے کہ کاش وہ موٹا ہوتا۔ اسکو اسکول میں بچے ہڈی،جلد اس طرح کے ناموں سے پکارتے تھے۔ اس سے اسکا اعتماد بری طرح مجروح ہو گیا اس کی زندگی میں ایک ہی خواہش ہے کاش میں تھوڑا سا موٹا ہو سکتا۔

اور جسکا وزن زیادہ ہے اسکو بھی شرمندگی کا سامنا ہے وہ صرف اس لیے خوش نہیں رہتا کہ وہ سمارٹ کیوں نہیں ہے۔

 اگر ہم یقین کی کمی کی بات کریں تو کوئی شخص ایسا ہوگا کہ ہر کام میں پہلے اسے ناکامی پر یقین ہوگا اور کامیابی پر یقین کی کمی کا شکار ہوگا۔ وہ یہی سوچتا ہے کہ میرے کلاس فیلوز اپنی کامیابی کے بارے میں اتنے پریقین کیسے ہیں؟ میں ان جتنا کبھی بھی پریقین نہیں ہو سکتا آخر کیوں؟ خود پر یقین کی کمی ہی اصل کمی ہے یہ آپکو کسی کا سامنا نہیں کرنے دیتی اور آپکے کے عیوب آپکے سامنے لا کر کھڑا کرتی ہے کہ آپکو رنگ خوبصورت نہیں آپ بہت دبلے ہیں آپ کا قد چھوٹا ہے۔ اس کم اعتمادی نے آپ سے زندگی کی خوبصورتی چھین رکھی ہے۔

یہ تمام باتیں نہیں بلکہ بہت سی ایسی چیزیں اور بھی ہیں جو آپ میں ہو سکتی ہیں اور انکی وجہ سے آپ خود کو کمتر محسوس کرتے ہیں۔ آخر کیوں؟

آخر ہم کیوں اپنی بے شمار خوبیوں کو چھوڑ کر ایک کمی پر توجہ دیتے ہیں؟ اور ہم دوسرے لوگوں میں بھی انکی بےشمار خوبیوں کو نظر انداز کر کے کسی ایک کمی کو ہی کیوں تلاشتے ہیں۔ ہمیں اس سب کو چھوڑنا ہوگا ہمارے اندر موجود خوبیوں کو تلاش کرکے ان پر فخر محسوس کرنا ہوگا۔ اپنے رب کا شکر ادا کرنا ہوگا کہ اس نے ہمیں کمی کم اور خوبیوں سے زیادہ نوازا ہے۔ آپ کو کسی بھی کمی کو لوگوں سے چھپانے کی ضرورت نہیں آپ جیسے ہیں بہت اچھے ہیں۔ آپکو قدرت نے جن چیزوں سے نوازا ہے وہ بالکل مکمل ہیں۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments
Huram sultan - Mar 10, 2022, 11:45 AM - Add Reply

Nice

You must be logged in to post a comment.

You must be logged in to post a comment.

About Author