How to believe Allah SWT is One?

توحید کی دعوت اور مشرکین کے اعتراضات

اسلام و علیکم!  آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب اللہ کے سچے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی گلیوں اور بازاروں میں دعوت توحید بلند کی تو مشرکین کی طرف جہاں بہت سے اعتراضات اٹھائے گئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ چلو ہم مان بھی لیں کہ صرف ایک اللہ کو پکارنا اور صرف اسی سے مدد طلب کرنا ایمان  اور توحید ہے اور غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے تو ذرا بتائیے کہ آپ سے پہلے جن تک یہ بات نہیں پہنچی تو ان کا کیا قصور تھا ۔ اللہ ان کو کس جرم میں پکڑے گا ۔ کیونکہ وہ تو جانتے ہی نہ تھے کہ ایمان کیا ہے اور نہ ہی شرک سے واقف تھے ۔ اللہ تبارک و تعالٰی کی طرف مشرکین کے اعتراضات کا رد کچھ یوں ہوا.سورة يونس 

ہُوَ الَّذِیۡ یُسَیِّرُکُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا کُنۡتُمۡ فِی الۡفُلۡکِ ۚ وَ  جَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ وَّ فَرِحُوۡا بِہَا جَآءَتۡہَا رِیۡحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَہُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اُحِیۡطَ بِہِمۡ ۙ دَعَوُا اللّٰہَ  مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ   ۬ ۚ  لَئِنۡ اَنۡجَیۡتَنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ  مِنَ  الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۲۲﴾ 

وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے ۔ چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر باد موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک باد مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ گھِر گئے، اس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے ۔ 31📖10 : سورة يونس 23

فَلَمَّاۤ  اَنۡجٰہُمۡ  اِذَا ہُمۡ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ  اِنَّمَا بَغۡیُکُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ ۙ مَّتَاعَ  الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ ثُمَّ  اِلَیۡنَا مَرۡجِعُکُمۡ فَنُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾ مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں ۔ لوگو، تمہاری یہ بغاوت الٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے ۔ دنیا کے چند روزہ مزے ہیں ﴿لوٹ لو﴾ ، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے ، اس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو ۔📖10 : سورة يونس  24اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا یَاۡکُلُ النَّاسُ وَ الۡاَنۡعَامُ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَہَا وَ ازَّیَّنَتۡ وَ ظَنَّ  اَہۡلُہَاۤ   اَنَّہُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَیۡہَاۤ ۙ اَتٰہَاۤ  اَمۡرُنَا لَیۡلًا اَوۡ نَہَارًا فَجَعَلۡنٰہَا حَصِیۡدًا  کَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ  یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۴﴾  دنیا کی یہ زندگی ﴿جس کے نشے میں مست ہو کر ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو﴾ اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہوگئی پھر عین اس وقت جب کہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک سمجھ رہےتھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آگیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کر کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں ۔ اس طرح ہم نشانیاں کھول کر پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں ۔📖10 : سورة يونس 25وَ اللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ؕ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ  اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۵﴾ ﴿تم اس ناپائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہو﴾ اور اللہ تمہیں دارالسلام کی طرف دعوت دے رہا ہے ۔  ﴿ہدایت اس کے اختیار میں ہے﴾ جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے ۔

*دنیا سمجهتی ہے!!!*

 بادشاہ کامیاب ہوگئے ۔۔۔۔

دولت والے کامیاب ہو گئے ۔۔۔۔

اعلیٰ عہدوں والے کامیاب ہو گئے ۔۔۔۔

کثرتِ اولاد والے کامیاب ہو گئے ۔۔۔۔

⭕لیکن قرآن کہتا ہے:

*📖قد افلح المومنون*

 *"ایمان والے کامیاب ہو گئے"*

تو پھر سچی بات کس کی؟؟؟

⚡یاد رکھیں⚡*سب سے پہلے شرک کی ملاوٹ سے پاک ایمان__**پھر نیک اعمال اور عبادات*

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author