ایک لڑکا تین سال تک اپنے والد کی وفات کے بعد چار ہزار روپے ماہانہ پر کام کرتا رہا۔ اس دوران اس لڑکے نے اپنے کام سے محبت کی اور اس کی محبت کا عالم یہ تھا کہ وہ خواتین کے سوٹ سے چوڑیاں یوں میچ کر دیتا تھا کہ جیسے یہ چوڑیاں اور سوٹ ایک ساتھ رنگ کیے گئے تھے یا پھر یہ چوڑیاں اسی سوٹ سے نکالی گئی ہیں اور وہ یہ کام کچھ ہی لمحوں میں تیز رفتاری سے کر دیتا تھا۔۔۔
تین سال بعد وہ اس دکان پر دس ہزار روپے ماہانہ پر کام کر رہا تھا کہ اسے ایک موقع مل گیا۔ اس دکان سے دس ہزار روپے تنخواہ چھوڑ کر وہ اگلے دن دوسری دکان پر اٹھارہ ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے لگا۔ دو وقت کا کھانا، دوائی کے پیسے اور چھٹی کرنے کے باوجود بھی کوئی کٹوتی نہیں ہونی تھی۔۔ یہ سب بھی اٹھارہ ہزار روپے کے علاوہ شامل تھا۔ اس دکان پر یہ لڑکا چھ لڑکوں کا جونیئر تھا مگر اپنی مہارت کی وجہ سے وہ پندرہ دن بعد ہی سب کا ہیڈ بن گیا اور مالک کی جگہ پر کرسی سنبھال لی۔۔ کسی وجہ سے یہاں سے چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا۔
پھر ایک اور دکاندار ان کے گھر گیا اور اس کی والدہ کی منت سماجت کرتے ہوئے اس لڑکے کو بیس ہزار روپے ماہانہ پر اپنے پاس لے آیا۔ پندرہ دن کے بعد اس دکاندار کو اس کا کام سمجھ نہ آیا تو اسے چھٹی دے دی اور وہ اپنے گھر بیٹھ گیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اب اسے مارکیٹ میں کوئی بھی کام نہیں دے گا لیکن اس لڑکے کے بارے مشہور تھا کہ اس کا انداز اور کمیونیکیشن اتنی کمال ہے کہ کبھی کوئی کسٹمر خالی نہیں گیا۔۔ ہر طرح کے سوٹ سے چوڑیاں میچ کرنا اس کے الٹے ہاتھ کا کھیل ہے۔ کسٹمر کو مطمئن کرنا جیسے اس کے خمیر میں شامل ہے۔۔۔۔
پھر دس دن بعد یوں ہوا یہ لڑکا پہلی جگہ پر جہاں سے دس ہزار روپے ماہانہ لے رہا تھا۔ اسی دکان کا مالک اس کے گھر پہنچ گیا اور مسلسل چکر لگانے کے بعد اس لڑکے کو چھبیس ہزار روپے ماہانہ پر واپس لے آیا۔ یاد رہے کہ چھ ماہ پہلے وہ جہاں دس ہزار لے رہا تھا آج وہاں پر ہی چھبیس ہزار لے رہا ہے۔ آپ میں اتنی مہارت ہونی چاہیے کہ آپ کمپنی کی مجبوری بن جائیں کمپنی آپ کی مجبوری کبھی نہ بنے۔۔ دس ہزار کی تنخواہ پر پچاس ہزار کا کام کرنا آپ کو بہت جلد پچاس ہزار لینے کے قابل بنا دیتا ہے لیکن یہ سوچ کہ دس ہزار میں دس ہزار والا کام ہی کرنا ہے۔۔ یہ سوچ آپ کو ساری زندگی دس ہزار روپے پر دھکے کھانے پر مجبور کر دے گی۔۔
یہ آپ لوگوں کیلئے شاید بڑی بات نہ ہو لیکن مزدور طبقے میں چھ ماہ میں اتنی ترقی کرنا بہت بڑی کامیابی ہے۔دو لاکھ یا پانچ لاکھ کا مطلب کامیابی نہیں بلکہ کامیابی تو یہ ہے کہ آپ اوپر جا رہے ہیں۔۔ پانچ فیصد، دس فیصد یا روزانہ ایک فیصد۔۔
You must be logged in to post a comment.