How to be thankful for the innumerable blessings of Allah?

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کیسے ادا کرتے ہیں 

شکر گزار بندہ بننے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے 

کہ انسان نعمتوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچائےـ

شکر گزاری سے انسان میں اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہےـ

 اس صورت میں وہ اپنے محسن کے ہر حکم پر سرتسلیم خم کر دیتا ہےـ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ـ

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، 

تم میں سے جو شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو اس سے زیادہ مالدار ہوـ

 اور اس سے زیادہ اچھی شکل و صورت کا ہو (اور اس کو دیکھ کر اپنی حالت پر ناشکری ہو) تو اسے چاہیے کہ وہ اس شخص پر نظر ڈالے جو اس سے کم تر ہو۔‘‘

اللہ تعالی نے اتنی نعمتیں ہمیں عطا کی ہیں۔

 کہ نعمتوں کو انسان شمار نہیں کر سکتا۔

 انسان سوچتا ہے کہ مجھے فلاں چیز کی ضرورت ہے اور وہ چیز تو میرے پاس ہونی چاہیے لیکن اگر انسان چند لمحے کے لیے سوچے کہ مجھے کتنی نعمتیں اللہ سے مانگ کر اور خود محنت کر کے ملی ہیں اور کتنی چیزیں ہیں جس کے لیے انسان نے سوچا ہے کہ مجھے مل جائیں ۔

تو ہر انسان اس نتیجہ پر پہنچے گا۔

 کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں دی ہیں بغیر اس کے سوچے بغیر مانگے بغیر محنت کیے ان کی مقدار بہت زیادہ ہے کئی نعمتیں ایسی نظر آئیں گی جن کے مانگنے کا کبھی خیال بھی نہ آیا ہو گا۔

 حالانکہ ان کے بغیر انسان زندہ بھی نہیں رہ سکتا۔

 لیکن اللہ نے وہ نعمتیں بھی انسان کو عطا فرمائی ہیں۔

اب ان تمام نعمتوں کا تقاضا ہے کہ انسان ان کا شکر ادا کرے انسان اللہ کی بے شمار نعمتوں کادل سے اقرار کرے زبان سے اس کی تعریف کا اظہار کرے لہٰذا صرف وہی انسان اللہ کا شکر گزار بندہ کہلائے گا جو عملی زندگی میں احکام الٰہی کا پورا پابند ہو۔

اللہ کی عبادت جس اندازکی اللہ نے سکھائی وہ بھی شکر کا بہترین انداز ہے۔ 

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ شکر خداوندی کا بہترین نمونہ ہے۔ 

راتوں کو اٹھ کر اتنی دیر مصروف عبادت رہتے کہ پائوں مبارک سوج جاتے۔ 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے یہ حالت دیکھ کر عرض کیا کہ آپؐ کے لیے تو اللہ نے مغفرت کا وعدہ فرما دیا ہے۔

 پھر آپؐ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں؟

 آپؐ نے جواب میں فرمایا: 

{افلا اکون عبداشکورا}

’’کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاوں

اب انسان سوچتا ہے کہ واقعی مجھے بھی شکر ادا کرنا چاہیے لیکن آخر شکر ادا کرنے میں رکاوٹ کیا ہوتی ہے ۔

 آج کے دور میں نہیں ہر دور میں انسان کے لیے شکر گزار بندہ بننے میں یہ بات رکاوٹ بنتی ہے۔

 کہ جب کوئی انسان مال و دولت میں دنیا کی چیزوں اور نعمتوں کے لحاظ سے اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے ۔

تو دل و دماغ میں بس ان چیزوں کی فہرست چلتی رہتی ہے ۔

یہ میرے پاس ہونا چاہیے۔ 

اور فلاں کے پاس اتنا ہے میرے پاس بھی ہونا ضروری ہے۔

 فلاں کے پاس ایسی رہائش گاہ ہے ۔

میرے پاس بھی ہونی چاہیے۔ فلاں کے شاندار سواری ہے میرے پاس کیوں نہیں۔ 

اس طرح انسان دنیا کی ان چیزوں کے اس تانے بانے میں الجھا رہتا ہے۔

 شکر کے کلمات زبان پر آنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا علاج بتایا کہ دنیا کے بارے میں اپنے سے کم تر کو دیکھو۔

 اور دین کے معاملہ میں اپنے سے بلند تر کو دیکھو۔

اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ مال و دولت اور دنیا کی نعمتوں کے لحاظ سے جو شخص کم تر ہو اس کی طرف دیکھنے۔

سے ان نعمتوں کا احساس ہو گا جو اللہ نے اس انسان کو دی ہیں اور اس سے انسان میں شکر کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

 شکر کی اس کیفیت میں اللہ کے بڑے نیک بندوں کے ساتھ ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں۔

جو بڑے عجیب اور سبق آموز ہوتے ہیں۔

 شیخ سعدی ؒ کے پاس ایک مرتبہ جوتا نہیں تھا،

 ننگے پائوں جا رہے تھے، شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ میں اللہ کا ایک نیک بندہ ہوں لوگوں کو اتنی اچھی باتیں بتاتا ہوں۔

 لیکن اللہ نے مجھے جوتا بھی نہ دیا۔

 شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ میں اسی خیال میں جا رہا تھا۔

 کہ ایک شخص کو دیکھا جس کے پائوں کٹے ہوئے تھے۔

 تو فوراً اللہ کا شکربجا لایا کہ اے اللہ جوتا نہیں تو کوئی بات نہیں۔

 تو نے مجھے چلنے کے لیے پائوں تو دیئے ہیں ۔

اس پر تیرا بڑا شکر ادا کرتا ہوں اگر انسان معاشرے میں رہتے ہوئے یہ سوچ بنا لے کہ میرا تعلق صرف اپنے سے اوپر والے سٹیٹس اور معاشرتی مرتبہ رکھنے والے شخص سے ہونا چاہیے تو پھر انسان کے اندر زندگی کے آخری لمحے تک اپنے پاس موجود چیزوں کے بارے میں شکر کے جذبات پید انہیں ہوتے۔ 

لیکن اگر کوئی انسان بیمار ہو جائے ۔

تو اپنے سے زیادہ بیمار شخص سے جا کر ملاقات کر لے اس کے دکھ سے تو اپنی بیماری ہلکی لگے گی۔

 اور جتنی صحت ہے اس پر شکر کے کلمات زبان پر جاری ہو جائیں گے۔

 اسی طرح اگر انسان اپنے ان عزیزو اقارب کی خبرگیری اور ان سے تعاون کرتارہے ۔

جو اس سے معاشی طور پر کم ہوں تو پھر یہ انسان اپنے پاس موجود ہر نعمت کا شکر ادا کرتا رہے گا ۔

اور پھر جس انسان کی مدد کی جائے ۔

وہ مدد کرنے والے کا شکریہ ادا کرے۔

 اس لیے کہ بندوں کا شکریہ ادا کرنے سے انسان میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے جذبات پیدا ہو تے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

{من لم یشکر الناس لا یشکر اللہ}

یعنی جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔

اور لوگوں کا شکر ادا کرنے کا طریقہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سکھایا ۔

کہ جب تمہیں کوئی ہدیہ تحفہ دے یا تم سے اچھا سلوک کرے تو جواب میں کہنا چاہیے:

 جزاک اللہ خیرا یعنی اللہ تم کو بہتر بدلہ دے۔

 اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔

کہ جو شخص دوسرے کو جزاک اللہ خیرا کہہ دے تو اس نے اس بندے کے شکریہ کا حق ادا کر دیا۔

اور اللہ تعالیٰ نے اپنا شکر ادا کرنے کے طریقے قرآن مجید میں سکھائے۔

 ان کے تین انداز ہیں دل سے شکر ادا کرنا،

 زبان سے شکر ادا کرنا

  اپنے عمل سے شکر ادا کرنا۔

دل سے شکر گزار بندہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ دل میں اللہ کی نعمتوں کا احساس ہو اور اس بات کا دل سے اعتراف ہو۔

 کہ واقعی اللہ ہی نے مجھے یہ ساری نعمتیں عطا فرمائی ہیں مجھے ان کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

زبان سے شکر ادا کرنے کی دو صورتیں بتائی ہیں۔ 

ایک یہ کہ انسان ان نعمتوں کا زبان سے اظہارکرے۔

 واما بنعمۃ ربک فحدث ۔

یعنی اپنے پروردگار کی نعمتوں کا ذکر کیا کرو۔

اس طرح انسان شکر ادا کرنے کے ساتھ تکبر اور غرور سے بھی بچ جاتا ہے۔

 اس لیے کہ جب انسان زبان سے یہ کہے گا کہ اللہ نے مجھے یہ دیا تو پھر اپنی محنت، اپنی قوت، اپنی کوشش پر تکبر نہیں کرے گا۔ 

زبان سے شکر کا دوسرا طریقہ یہ سکھایا ۔

کہ نعمت دینے والے اللہ کی زبان سے تعریف کی جائے ۔

ارشاد فرمایا الحمد راس الشکر یعنی تعریف خداوندی شکر کا سرچشمہ ہے۔

 اس لیے جب کوئی نعمت ملے، جب اچھی حالت نصیب ہو تو الحمدللہ زبان سے کہنا سکھایا گیا۔

اور انسان اپنے عمل سے کیسے شکر ادا کرے،

 اس کی ایک صورت تو یہ سکھائی گئی۔

 کہ انسان اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ 

پورے بدن کو وہاں استعمال کرے جہاں اس نے حکم دیا ۔

ہاتھ، پائوں، آنکھیں، کان، زبان کو صرف اسی اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔

ہم عام زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ہم کسی کو کوئی چیز تحفۃً دیں۔

 اور وہ اسے بے دردی سے بے ڈھنگے طریقے سے استعمال کرے تو ہمیں کتنا برا لگے گا۔

 لہٰذا انسان کے لیے بھی یہ ضروری ہے۔

 کہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے مال کو فضول خرچی، ریاکاری اور عیاشی میں خرچ نہ کرے۔

اسی طرح اللہ کا شکر گزار بندہ بننے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے ۔

کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچائے۔

 اور جن لوگوں کے پاس وہ نعمتیں نہیں ہیں۔

 ان کو بھی ان نعمتوں میں شریک کرے۔ 

اپنے عزیزو اقارب اپنے ملنے جلنے والے اپنے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں کی خبر گیری کرتا رہے۔

 اور ان کی ضرورت اور ان کی پریشانیوں میں مدد کرتا رہے۔ اس طرح یہ انسان دل سے زبان سے اور اپنے اعمال سے اللہ کا شکر گزار بندہ بن جائے گا۔اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرماے امین

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author

Hi, I'm Riaz Gillani, a professional writer and content creator with a passion for crafting engaging stories and articles. With a strong background in research and writing, I deliver high-quality content that resonates with audiences. Let's collaborate and create something amazing! ✍️