HOW TAFSEER E QURAAN MAJEED IN EASIEST WAY

*🕋 04 || معارف حرمین*

(✍ ترتیب : شعبہ بنات الخلیل)

 

*🕌 مسجد کاتبیة*

 امام نافع رحمہ اللہ علیہ کا یہاں مکان تھا اور حضرت رافع بن مالک الزرقی رضی اللہ عنہ کی قبر بھی یہاں تھی، انہوں نے منی میں حضور اکرم ﷺ سے قرآن سیکھا تھا اور مدینہ آکر سب سے پہلے قرآن پڑھا، جنگ احد میں شہید ہوئے اور یہاں ان کی قبر تھی پھر 15 سال پہلے انہیں جنت البقیع میں شفٹ کیا گیا، یہ مسجد گیٹ نمبر 311 کے پاس ہے۔

مسجد غمامہ، مسجد ابوبکر، مسجد علی یہ تینوں مسجدیں اس جگہ بنائی گئیں جہاں حضور کے زمانے میں عید گاہ تھی اور یہ عید گاہ شہر سے باہر تھی۔

یہ حضور اکرم ﷺ زمانے میں مسجد نہیں تھیں، بعد میں بنائی گئیں۔

 

*🌴 ترکی اسٹیشن*

ترکی دور کا ریلوے اسٹیشن 100 سال پرانا ہے اور یہاں 100 سال پرانی مسجد سقیا ہے، ترکوں نے 600 سال حکومت کی تھی، انہوں نے ترکی سے یعنی استنبول سے مدینہ تک کی 1300 کلومیٹر لمبی ریلوے لائن بچھائی اور استنبول سے مدینہ تک 11 سال تک ٹرین چلتی رہی۔

 

 *✒️ ترکوں کا ادب* 

ترکوں کا ادب ہے کہ مدینہ کے قریب انہوں نے ریل کی پٹری پر ریلوے ٹریک پر روئی بچھائی تھی تاکہ شور نہ ہو۔

 

 *🕌 مسجد سقیا*

آپ ﷺ ایک مرتبہ یہاں تشریف لائے کنویں کے پانی سے وضو فرمایا، یہاں نماز پڑھی اور مدینہ کی برکت کے لئے دعا فرمائی کہ *یااللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے خلیل تھے، دوست تھے، انہوں نے مکہ کے لئے دعا کی، میں بھی تیرا غلام ہوں، تیرا رسول ہوں، میں مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں اور مکہ سے دو گنا زیادہ کی دعا کرتا ہوں*

پوری دنیا میں سب سے زیادہ مکہ میں برکت ہے اور مکہ سے زیادہ مدینہ میں برکت ہے۔

آپ ﷺ نے یہ بھی دعا فرمائی کہ *اے اللہ ! مدینہ کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے* 

اور فرمایا:

*اللهم بارك لنا فی مدنا و صاعنا* 

*اے اللہ ہمارے مد اور صاع میں برکت عطا فرما* 

ایک مد پانی سے آپ ﷺ وضو فرماتے تھے تقریبا 750ml پانی اس میں آتا ہے اور 4 مد سے غسل فرمایا کرتے تھے، آج کل جو برتن موجود ہے، یہ نیا ہے لیکن میجرمینٹ اور سائز وہی ہے، اسکی سند بھی موجود ہے۔

 

 *🕌 مسجد مینارتین*

یہاں حضور اکرم ﷺ نے نماز پڑھی ہے۔

مینارہ : اونچی جگہ کو کہتے ہیں یہاں دو پہاڑیاں تھیں، اس لئے اس ایریا کا نام مینارتین ہے۔

مسجد مینارتین کے سامنے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت فاطمہ بنت حسین کا 1400 سال پرانا مکان ہے، حضرت حسین کی والدہ کا نام بھی فاطمہ اور بیٹی کا نام بھی فاطمہ، دادی اور پوتی دونوں کا نام فاطمہ تھا!

کربلا سے واپسی پر یہ خاندان یہاں آکر ٹہرا تھا، یہاں ایک کنواں بھی موجود ہے، کنویں کی کھدائی کے وقت ایک چٹان نکل آئی تھی، دو رکعت صلوۃ الحاجة اور اللہ تعالی سے دعا مانگ کر دوبارہ کھدائی شروع کی گئی تو چٹان کا پتہ نہیں چلا کہ کہاں گئی؟ اللہ تعالٰی نے وہ چٹان غائب کردی!

اس کنویں میں پانی نہیں ہے، لیکن یہ کنواں موجود ہے۔

ایک عجیب بات یہ ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں کے نام ابو بکر اور عمر تھا۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں کے نام ابوبکر اور عمر تھا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کئی بیٹے تھے، ایک بیٹے کا نام ابوبکر تھا دو بیٹوں کا نام عمر تھا اور ایک بیٹے کا نام عثمان تھا۔

مقصد یہ ہے کہ آپس میں محبت تھی اس لئے اپنے بچوں کے نام ان خلفاء کے نام پر رکھا کرتے تھے۔

 

 

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author