"تم ماں نہیں بن سکتی میں نے پھر بھی تمہیں میری بیوی بننے کا درجہ دیا
تم بانجھ تھی میں پھر بھی لوگوں کو رشتے داروں کو نہیں بتاتا تھا
میں نے اپنی پہلی بیوی کے دھوکے کے بعد تمہیں جگہ دی تھی دل میں چاندنی اور تم نے کیا کیا۔۔؟؟"
وہ جب چلایا تو ہسپتال کے ہر اس شخص نے سنا جہاں جہاں بہروز حاکم کی آواز گونجی
"بہروز۔۔۔" ہاتھوں میں چھپائے ہوئے سر کو اس نے جب اٹھایا تو چہرہ آنسوؤں سے تر تھا
اور اور آنکھوں میں بےیقینی انتہا کی تھی اپنے شوہر کے منہ سے اپنی زندگی کے بھیانک سچ سن کر وہ تو پتھر بن گئی تھی اور زبان سے ایک ہی نام نکلا تھا 'بہروز'
"تم بانجھ تھی پھر بھی میں نے اپنا بیٹا تمہاری خالی گود میں ڈالا۔۔۔ اور تم نے کیا کردیا۔۔؟
اسکی جان لے لی۔۔؟؟ میرے شایان کو مار دیا۔۔؟؟"
"بہروز میرا یقین کیجئے۔۔میں ۔۔شایان کو۔۔"
"خبر دار ایک اور لفظ نہیں۔۔"
چہرے کو چھوتے ہوئے ہاتھوں کو جھٹک دیا تھا اور چاندنی کے منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے ان کے جسموں کے درمیان ہی نہیں انکی روحوں کے درمیان بھی وہ فاصلہ بڑھا دیا تھا جو آنے والے چند سالوں تک وہیں رہنا تھا۔۔۔ نہ ختم ہونی والی جدائی کی طرح
"اب سمجھ آیا۔۔۔ کیوں اللہ نے تمہیں اولاد جیسی نعمت سے نہیں نوازا۔۔۔ چاندنی تم ماں بننے کے لائق ہی نہیں ہو۔۔۔ سہی کہتے ہیں سب منحوس ہو تم۔۔ اپنے ماں باپ کو کھا گئی تو میرا بیٹا کیسے محفوظ رہتا۔۔؟؟
غلطی۔۔۔ گناہ ہوگیا مجھ سے۔۔ تم سے شادی کی اپنے بیٹے کی خوشیوں کے لیے تم سے شادی کی تھی ارے تم تو اسکی موت بن گئی ۔۔۔"
وہ نیچے گری ڈری ہوئی اپنی بیوی پر ایسے چلا رہا تھا کہ وہاں کھڑے ہر اپنے اور پرائے کو چاندنی پر ترس آرہا تھا مگر بہروز حاکم۔۔۔ وہ پیچھے منہ پھیر چکا تھا
"بہروز۔۔۔ میرا یقین کیجئے شایان میری جان۔۔"
"اس لیے جان لے لی۔۔؟ دفعہ ہوجاؤ۔۔۔ نکل جاؤ میری زندگی سے شکل بھی مت دیکھانا۔۔۔ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔"
وہ چاندنی کی طرف جیسے ہی بڑھا تھا چاندنی ایک دم سے پیچھے ہوگئی تھی اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے جیسے وہ بچا رہی تھی اس جان کو جس کا ابھی کسی کو بھی معلوم نہیں تھا۔۔۔
"ڈاکٹر آگئے ہیں۔۔"
سب کی نظر آئی سی یو کی طرف واپس چلی گئی تھی
"ایم سوری۔۔۔ ہم آپ کے بیٹے کو نہیں بچا پائے۔۔۔آپ۔۔۔"
"چاندنی۔۔۔"
چاندنی جاتے جاتے رکی تھی مگر پیچھے نہی رکی تھی
"بہروز نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔"
"بہروز۔۔"
دس لوگوں نے اسکے ہاتھوں کو روک لیا تھا اس کی گن جو چاندنی پر چلنے والی تھی وہ گن کا رخ اوپر کی جانب کردیا تھا سب نے اور کتنی گولیاں ہوا میں چلنے کی آواز آئی تھی۔۔۔
"بابا غصے میں ہیں بچہ۔۔۔ "
وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے آہستہ قدموں سے وہاں سے باہر جانا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
"شایان۔۔۔۔"
بہروز حآکم چلاتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھا گیا تھا۔۔۔ چہرے کو ہاتھوں میں چھپائے اس کے رونے کی آوازیں وہاں گونجی تھی
"بہروز۔۔۔ شایان میرا بھی بیٹا تھا چاہے میں نے اسے جنم نہ دیا ہو۔۔۔ وہ میری اولاد تھا۔۔
آپ نے اپنے بیٹے کو کھو دیا۔۔۔ میں نے اپنے بیٹے اور شوہر کو کھو دیا۔۔۔"
اور وہ اس رات وہ اس ہسپتال سے ہی نہیں بہروز حاکم کی زندگی سے بھی دور چلی گئی تھی بہروز حاکم کی اولاد کے ساتھ
۔
ناول: دوسری عورت
رائٹر سدرہ شیخ
۔
You must be logged in to post a comment.