سوشل میڈیا فیس بُک دوستی
فیک ای ڈی سے بات چیت شروع پھر دوستیاں بہت مختاط ہو کر سوشل میڈیا کا استعمال کریں صرف قرآن و حدیث کی دعوت کے لیے آج دیکھا جاتا ہے غیر محرم کو ایڈ کر کے دین سیکھاجاتا پہلے بہن بھائی بنتے پھر وہی نامحرم بہنیں بھائی ایک دوسرے کو شادی کا پیغام بیھج رہے ہوتے ہیں کچھ تو اللہ کا خوف کریں اپنی عزتوں کی حفاظت کریں الله رب العزت نے سورہ نساء میں مومن عورتوں کی ایک صفت یہ بھی بتائی کہ وہ چھپے دوست نہیں بناتی تو چھپی دوستی سے مراد نامحرم کی دوستی ہے آپ غور کریں جب الله پاک آپکو اسطرح غیر محرم کی دوستی سے منع کررہا ہے تو اس میں فائدہ ہی ہے نہ۔ غیر محرم اگر اتنا مخلص ہوتا تو میرا الله کبھی اس سے پردے کا حکم نہ دیتا اور عورت کو اتنے سخت لہجے کی تاکید نہ کرتا۔ غیر محرم جتنا بھی دیندار یا اعلی اخلاق ہو اسکے لئے دل کے دروازے کھولنا ذلت اور رسوائی کا سبب بن سکتا ہے
اللّٰہ تعالیٰ کا ازواج مطہرات کے بارے میں حکم
الله رب العزت نے اپنی کتاب میں ازواجِ مطہرات کو مخاطب کر کے قیامت تک آنے والی تمام خواتین کو تعلیم دی ہے کہ:اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو اگر مجبوری کی حالت میں بات کرنا پڑ جائے تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
(سورہ الأحزاب: 32)
الله تعالیٰ نے عورتوں کو تاکید کی ہے کہ غیر محرم سے کلام کرتے ہوئے لہجہ نرم نہ رکھیں۔ کیونکہ جب عورت نرمی یا لچک دکھاتی ہے تو یہ بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ غیر محرم کبھی آپکی حفاظت نہیں کر سکتا وہ کبھی آپکا مخلص نہیں ہو سکتا غیر محرم غیر محرم ہی ہے چاہے معاملہ دینداری کا ہو یا دنیا داری کاحرام ہے اس رشتہ جس اللہ کی نافرمانی ہوایک لڑکی کے لئے معاشرے میں بدترین پہچان کسی نامحرم کی دوست (گرل فرینڈ) ہونا ہے۔ غیر محرم سے دوستی ایک ایسا فعل ہے۔ جسکا ارتکاب کرنے والا اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے۔ غیر محرم سے تعلقات انسان کو اس دنیا میں بھی زلیل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی جب تمام مخفی اعمال سامنے لائے جائیں گے تو ایسی رسوائی ہوگی کہ کسی سے نظریں نہ ملا سکیں گےیہ بات بہت حیران کن ہے کہ لال بیگ اور چھپکلی سے ڈرنے والی حساس لڑکیاں آخر ایک غیر محرم مرد سے کیوں اکیلے ملنے سے نہیں ڈرتی ؟ﺣﺮﺍﻡ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺖ ﮈﮬﻮﻧﮉﻭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﭘﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ، ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﻀﺐ ﮨﻮﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﺫﻟﺖ ﺍﻟﮓ ،ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﭽﺎ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﮯ،ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺫﻟﺖ ﮐﺎ ﮈﺭ ﮨﻮ، ﻧﺎ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮐﺎ، ﻧﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻏﻀﺐ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﮐﺎ۔ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺣﻼﻝ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﻼﻝ ﺭﺷﺘﯿﮟ ﺩﺋﯿﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ اللہ کا واسطہ ہےﺣﺪﻭﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺖ ﺗﻮﮌﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﺋﯿﮟ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﺳﮯ.ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮨﮯ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪ صلی اللہ علیہ وسلم ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺮﺍﻡ ﺭﺷﺘﻮﮞﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮐﮭﮯ
You must be logged in to post a comment.