امید اور مایوسی
عزیز دوستو آج کے دور میں آپ ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں طرف مایوسی ہی مایوسی نظر آئے گی۔ انسانوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو بےحس ہیں۔ اور کنوئیں کے مینڈک بنے ہوئے ہیں۔ ہر کسی کو اپنی پرواہ ہے اور سوچتا ہے جو ہورہا ہے بس ہوتا رہے۔ اور دوسروں کے جو ممکن ہو سکے سہولیات پیدا نہیں کرتا۔
مایوسی کفر ہے
وہ رب کی ذات ہمیں خود کہہ رہی کہ چاہے کیسے بھی حالت کیوں نہ ہوں کتنا ہی ہم نے خود کو گناھوں کی دلدل میں کیوں نہ پھنسا لیا ہو جب بھی اسکی طرف پلٹیں گے اُسے رحیم ہی پائینگے سورة الزمر
قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۳﴾ آپ کہہ دیں کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ،اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ،یقیناًاﷲ تعالیٰ سب کے سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ یقیناوہی بڑابخشنے والا،نہایت رحم والا ہے۔سورہ الزمر 53ہر انسان کی زندگی میں مشکل وقت ضرور آتا ہے۔کچھ لوگوں کا یہ مشکل وقت لمحوں پر محیط ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کے لٸے سالوں پر۔ لیکن بہر حال ایک نا ایک دن ختم ہوہی جاتا ہے۔ کبھی پیچھے پلٹ کر دیکھے کہ کونسی ایسی مشکل ہے جوکبھی ختم نا ہوٸی ہو۔ یقیناً کوٸی نہیں ۔لیکن اس کے باوجود ہم انسان مایوس جلد ہوجاتے ہے۔ جبکہ بحیثیت مسلمان ہمیں علم ہونا چاہیٸے کہ مایوسی گناہ ہے۔ اپنی ہر مشکل میں اپنے رب کو پکارے اس پر کامل توکل رکھے پھر دیکھے کہا کی مشکل اور کیسی مشکل۔۔۔۔
آج کا انسان خود غرض
کسی چیز کی کوئی فکر نہیں۔ بس اپنی فکر ہے یا مال و دولت جمع کرنے کی ۔ اس سے آگے کوئی فکر نہیں۔ کسی پر کیا گزر رہی ہے کوئی پرواہ نہیں۔ کوئی بھوکا ہے کوئی ضرورت مند ہے کوئی پرواہ نہیں۔ ان لوگوں کو چھوڑئیے میں ان اقلیت کی بات کر رہا ہو وہ دو طرح کے لوگ ہیں ذہین اور حساس۔ کبھی طبیعت میں مایوسی سی ہے۔اور کہیں امید بھی نظر آتی ہے۔نارمل انسان جب وہ ابنارمل ہوتا ہے تو ایسے نظر آرہا ہوتا ہے جیسے کمر ٹوٹ چکی ہو۔ اس صورت میں اللّٰہ سے عبادت والا تعلق بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ کوئی روشن پہلو نظر نہیں آرہا ہوتا ہے۔ اس صورت میں خودکشی کی طرف لوگ مائل ہوجاتے ہیں۔ مایوسی انسانیت کی فطرت میں پیدا ہوگئی تو وہ کفر میں داخل ہو جاتا ہے۔ سورہ الضحیٰ میں اللّٰہ سبحان و تعالیٰ فرماتے ہیں۔ قسم ہے دن میں دھوپ چڑھنے کی، اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے یا ساکن ہوجائے۔ آپ کے رب نے آپ کو رخصت نہیں کیا ہے نا ہی آپ سے ناراض ہوا ہے۔ اور اس کے بعد جو وقت آۓ گا وہ پہلے سے بھی بہتر ہوگا۔ عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا کچھ دی گا اتنا کچھ دے گا آپ کی محنت کے وہ نتائج سامنے آئینگے کہ آپ راضی ہو جائینگے۔ کیا اس نے اے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ کونہ پایا جب آپ یتیم تھے۔ اور پھر جب آپ شعور کی پختگی کی عمر میں پہنچے اور غور وفکر کا معاملہ آیا ، سوچ و بچار کا معاملہ آیا اور آپ کو پایا تنگ دست تو آپ کو غنی کردیا۔ ہم نے آپ کو یتیم پایا پناہ دی۔ اور آپ بھی یتیم کی سرپرستی کریں۔ اس پر کوئی تنگ دستی نہ ہو
مایوسی اور ناامیدی کا حل قرآن سے
اگر آپ اپنی دنیا اور آخرت کو بچانا چاہتے ہیں تو قرآن کریم واحد کتاب ہے جو آپ کو سب بہترین راستہ بتائے گی۔ جب آپ اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے انبیاء علیہم السلام کے واقعات پڑھیں گے ان سے سبق حاصل کریں گے، سوچ و بچار سے کام لیں گے تو انشاء اللہ آپ کی زندگی سے تمام مایوسی ، پریشانیاں، دکھ اور تکالیف چھوٹی لگنے لگیں گی۔ اور آپ مزید مظبوط ہوجائیں گے۔ یہ سمجھ کر کہ دنیا کی سب چیزیں آخرت والی چیزوں اور انعامات کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی آزمائش اور انکا صبر۔ اور وہ مایوس نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اللّٰہ سبحان و تعالیٰ سے اپنی عبادت والا تعلق بہت مظبوط کیا۔ اسی حضرت ایوب علیہ السلام جب رات کو سوتے ہیں۔ صبح ہوتی ہے تو انکی ہڈیوں کے تین سو ساٹھ جوڑوں میں شدید درد۔ اور کافروں نے بستی سے نکال دیا۔ دور دراز جنگلوں میں اپنی نیک بیوی کے ساتھ بڑی مشکل آزمائش میں سے گزر رہے تھے۔ تو وہ مایوس نہیں ہوئے بلکہ ان اللّٰہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس پر امید بھی تھی۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو آزمائش کے بعد انعامات سے نوازا۔ قرآن مجید میں یہ واقعات محفوظ ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا مایوس اور ناامید ہونا بھی اسی بات کی شواہد ہے۔ پیارے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی۔ مصر کی منڈیوں میں فروخت ہوئے۔ مگر حضرت یعقوب علیہ السلام مایوسی نہ ہوئے۔ بلکہ صبر کیا۔ اسی طرح ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طوائف کی وادی میں پتھروں کی برسات سے لہو لہان ہو کر جوتے مبارک کا بھی خون میں بھر جانا۔ اس آزمائش پر صبر۔ تو ہم جلدی ہار مان لیا کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم دین سے دور ہیں۔ ہم اللّٰہ اور اس کے رسولِ کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی کو پڑھنے نہیں ہیں۔ اس وجہ سے ہم مایوسی کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ لا علمی اور جہالت کی وجہ سے ہم مایوسی اور ناامیدی جیسی عادت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں اللّٰہ سبحان و تعالیٰ کو بھول کر کفر کے دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جسکی وجہ سے جہنم مقدر بن سکتی ہے۔ اللّٰہ سبحان و تعالیٰ ہمیں نا امیدی اور مایوسی جیسے گناہ سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
قرآن مقدس میں
حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت ایوب علیہ السلام، حضرت زکریا علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام اور آخری نبی محمد صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی مبارک اور وادی طائف کا واقعہ یہ سب مایوسی اور نا امیدی کا بہترین حل ہے۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا۔ والسلام
دعاگو ! محمد فرخ عثمان
You must be logged in to post a comment.