ہارمونز کے اثرات حیض اور حفاظتی تدابیر حیض کے شروع میں ہارمون کی مقدار ہموار نہیں ہوتی یہ کبھی بڑھتے ہیں اور کبھی ان کی مقدار کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اسی وجہ سے ایک نوجوان ہوتی ہوئی لڑکی عمومی رویہ کبھی کبھی باغیانہ کبھی منموجی مبہم ہوتا ہے یعنی ملا جلا سا ہوتا ہے اور اسی زمانے میں لڑکی کا جسم تیزی سے بڑھنا شروع ہوتا ہے اور اس میں ایک بالغ عورت کے جسم کی نمایاں خصوصیات ابھر کر سامنے انے لگتی ہے مثلاً چھاتیوں کا بڑھنا شرم گاہ کے اردگرد بالوں کا نکلنا وغیرہ نسوانی ہارمون کے پیدا ہونے کے عمل میں ایک ٹھہراؤ اور تسلسل پایا جاتا ہے تو پورے مہینے کے دوران ان کی پیداوار کی سطح باقاعدگی سے اور بننے کی وجہ سے جسم میں ہر مہینے کوئی نہ کوئی تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے ایک ماہ کے دوران پہلے نصف دور میں ایسٹروجن ہارمون پیدا ہوتا ہے جو جلد کو شگفتگی اور مزاج کو خوشگواری بخشتا ہے اور کچھ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اس ہارمون کی وجہ سے انڈے کے اخراج سے قبل اندام نہانی سے خارج ہونے والی رطوبت میں تبدیلی ہوتی ہے مہینے کے اس دوران یہ پتلی شفاف اور آسانی سے بہنے والی ہوتی ہے اس میں ہلکی سی بدبو ہوتی ہے انڈہ خارج ہوتے ہیں . انڈے کے اخراج سے قبل اندام نہانی سے خارج ہونے والی رطوبت میں تبدیلی ہوتی ہے مہینے کے اس دوران یہ پتلی شفاف اور آسانی سے بہنے والی ہوتی ہے اس میں ہلکی سی بدبو ہوتی ہے انڈہ خارج ہوتے ہیں پروجیسڑون ہارمون اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتے ہیں اندام نہانی کی رطوبت گاڑھی غیر شفاف چپکنے والی مچھلی جیسی بو والی ہو جاتی ہے چھاتیاں ذرا بھاری اور سخت ہو جاتی ہیںپروجیسڑون ہارمون اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتے ہیں اندام نہانی کی رطوبت گاڑھی غیر شفاف چپکنے والی مچھلی جیسی بو والی ہو جاتی ہے چھاتیاں ذرا بھاری اور سخت ہو جاتی ہیں چھاتیوں کے نپلز میں ہلکی سی خارش یا کبھی کبھار درد بھی ہونے لگتا ہےحیض کی حالت میں سردی سے بچا جائے کیونکہ سردی رطوبت پیدا کرتی ہے اور جہاں تک نوبت کی کثرت ہو گی وہاں خون آنا رک جائے گا لہذا سردی سے بچنا ضروری ہے جیسے ہی ماہواری کا عمل شروع ہوتا ہے تو یہ ساری علامات کم ہوتی جاتی ہیں مہینے کے ان دنوں میں چہرے پر دانے نکل آتے ہیں لیکن اگر ماہواری باقاعدہ آنے لگے تو یہ چہرے پر ہر گز نہیں نکلتے حیض اور احتیاطی تدابیر حیض کی حالت میں سردی سے بچا جائے کیونکہ سردی رطوبت پیدا کرتی ہے اور جہاں تک نوبت کی کثرت ہو گی وہاں خون آنا رک جائے گا لہذا سردی سے بچنا ضروری ہے ٹھنڈے پانی سے پرہیز کریں دوران حیض خون کو جذب کرنے کے لیے صاف ستھرا کپڑا استعمال کرنا چاہیے تاکہ کسی طرح کا انفیکشن نہ ہو پیڈ کو تر ہونے کے بعد جلدی جلدی بدل دیں حیض کے دوران جنسی تعلق سے مکمل طور پر اجتناب کریں کیونکہ اس سے بہت سی خطرناک لاعلاج بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں حیض ایام مکمل ہونے کے بعد فوراً کر لینا چاہیے تاکہ حیض کی حالت میں خارج ہونے والا تیزابی مواد کسی طرح کوئی نقصان نہ پہنچا سکے حیض کی حالت میں ٹھنڈے مشروب اور تیز مرچ مصالحے اور چٹ پٹی اشیاء کا استعمال سے پرہیز کریں
You must be logged in to post a comment.