How Hazrat Abu Zar Ghaffari spend his beautiful life with Hazrat Muhammad peace be upon him

 

                                      ابو ذر غفاری

 
 
ابو ذر غفاری
(عربی میں: أَبُو ذَرّ ٱلْغِفَارِيّ)  ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخطيط اسم أبو ذر الغفاري.png
 
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (عربی میں: جُنْدَب بن جُنادَة بن سُفيان ٱلْغِفَارِيّ ٱلْكِنَانِيّ‎)  
پیدائش حجاز  
وفات سنہ 651  
ربذہ  
بہن/بھائی
عملی زندگی
نمایاں شاگرد انس بن مالک  
پیشہ واعظ،  محدث،  تاجر  
پیشہ ورانہ زبان عربی
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  غزوہ احد،  غزوہ خندق،  فتح مکہ 
 
 

صحابی۔ جُنْدُب بن جُنَادَة نام، ابوذر کنیت، شیخ الاسلام لقب۔ قبیلہ بنو غفار سے تھے جس کا پیشہ رہزنی تھا۔ ابتدا میں آپ نے بھی آبائی پیشہ اختیار کیا لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کی خبر سنی تو مکہ آکر اسلام قبول کر لیا۔ 

 

عظیم المرتبت محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ سے بے شمار احادیث مروی ہیں۔ بڑے قناعت پسند اور سادہ مزاج تھے۔ مال و زر کے معاملے میں قلندرانہ مسلک رکھتے تھے۔ صحابہ کرام کے حوالے سے یہ بات معلوم ہونا بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ کچھ احادیث اور تاریخی کتابوں کے واقعات میں راویوں پر علما اسلام کی طرف سے جرح بھی کی گئی ہے اور بہت سے راویوں کے حالات معلوم نہیں ہیں ۔مسلمان امت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت اطھار کے بارے میں صحیح عقائد قرآن وسنت اور مستند و صحیح احادیث نبوی سے لیتے ہیں

 

بعض روایات جو کہ کتب احادیث و تاریخ میں اہل بدعت راویوں کی بھی ہیں وہ اس لیے قابل اعتبار نہیں کیونکہ علما اسما الرجال نے بدعت سے نسبت رکھنے والی روایات کو مردود و مذموم قرار دیا ہے۔

 

                           نام ونسب

جندب نام، ابوذر کنیت"مسیح الاسلام" لقب، سلسلہ نسب یہ ہے، جندب بن جنادہ ابن قیس بن عمروبن ملیل بن صعیر بن حزام بن غفار بن ملیل بن حمزہ بکر بن عبد مناۃ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدر کہ غفاری، ماں کا نام رملہ تھا اور قبیلہ بنی غفار سے تعلق رکھتی تھیں۔

                            قبل از اسلام

حضرت ابوذرؓ کا قبیلہ بنو غفار رہزنی کیا کرتا تھا، جاہلیت میں ابوذرؓ کا بھی یہی پیشہ تھا اور وہ نہایت مشہور راہزن تھے، تن تنہا نہایت جرأت اور دلیری سے قبائل کو لوٹتے تھے؛

 

 لیکن کچھ دنوں کے بعد ان کی زندگی میں دفعۃ انقلاب ہوا اورایسا سخت ہوا کہ رہزنی یکلخت ترک کرکے ہمہ تن خدا پرستی کی طرف مائل ہوگئے، چنانچہ ظہور اسلام کے پہلے جب سارا عرب ضلالت میں مبتلا تھا وہ خدا کی پرستش کرتے تھے، ابو معشرؓ راوی ہیں کہ ابوذرؓ جاہلیت ہی سے موحد تھے، خدا کے سوا کسی کو معبود نہیں سمجھتے تھے اور بتوں کی پوجا نہیں کرتے تھے،

 

 ان کی خدا پرستی عام طورپر لوگوں میں مشہور تھی، چنانچہ جس شخص نے ان کو سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کے ظہور کی اطلاع دی، اس کے الفاظ یہ تھے کہ "ابوذرؓ" مکہ میں تمہاری طرح ایک شخص لا الہ الا اللہ کہتا ہے 

 

ابوذرؓ کی خدا پرستی صرف اعتراف توحید تک محدود نہ تھی ؛بلکہ جس طرح بن پڑتا تھا نماز بھی پڑہتے تھے، وہ خود کہتے تھے کہ میں آنحضرت ﷺ سے ملنے کے تین سال قبل سے نماز پڑہتا تھا، لوگوں نے پوچھا کس کی نماز پڑہتے تھے کہا خدا کی پھر پوچھا کس طرف رخ کرتے تھے جواب دیا جس طرف خدا پھیردیتا، اینما تولوافثم وجہ اللہ، ع ہر جا کنیم سجدہ بآں آستان رسید۔

 

                                    اسلام کی تلاش میں پہلی آزمائش

چونکہ ابوذرؓ جاہلیت ہی سے راہِ حق کے متلاشی تھے، اس لیے حق کی پکار سنتے ہی لبیک کہا اوراس وقت دعوت حق کا جواب دیا، جب چار آدمیوں کے سوا ساری دنیا کی زبانیں اس اعلانِ حق سے خاموش تھیں، اس اعتبار سے اسلام لانے والوں میں ان کا پانچواں نمبر ہے، 

 

ان کے اسلام کا واقعہ خاص اہمیت رکھتا ہے یہ دلچسپ داستان خود ان کی زبان سے مروی ہے، ان کا بیان ہے کہ جب میں قبیلہ غفار میں تھا تو مجھ کو معلوم ہوا کہ مکہ میں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، میں نے اپنے بھائی کو واقعہ کی تحقیق کے لیے بھیجا وہ واپس آئے تو میں نے پوچھا، کہو کیا خبر لائے؟ انہوں نے کہا خدا کی قسم یہ شخص نیکیوں کی تعلیم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے، اس قدر مجمل بیان سے میری تشفی نہیں ہوئی، اس لیے میں خود سفر کا مختصر سامان لے کر مکہ چل کھڑا ہوا، وہاں پہنچا تو یہ دقت پیش آئی کہ میں رسول اکرم کو پہچانتا نہ تھا

 

 اورکسی سے پوچھنا بھی مصلحت نہ تھی، اس لیے خانۂ کعبہ میں جاکر ٹھہر گیا اور زمزم کے پانی پر بسر کرنے لگا، اتفاق سے ایک دن علیؓ گذرے، انہوں نے پوچھا تم مسافر معلوم ہوتے ہو، میں نے کہا، ہاں وہ مجھ کو اپنے گھر لے گئے؛لیکن مجھ سے ان کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی، صبح اٹھ کر میں پھر کعبہ گیا کہ لوگوں سے اپنے مقصود کا پتہ دریافت کروں کیوں کہ ابھی تک آنحضرت ﷺ کے حالات سے بے خبر تھا، 

 

اتفاق سے پھر علیؓ گذرے اور پوچھا کہ اب تک تم کو اپنا ٹھکانہ نہیں معلو ہوا، میں نے کہا نہیں، وہ پھر دوبارہ مجھ کو اپنے ساتھ لے چلے، اس مرتبہ انہوں نے پوچھا، کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا اگر اس کو راز میں رکھیں تو عرض کروں، فرمایا مطمئن رہو، میں نے کہا میں نے سنا تھا کہ یہاں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے،

 

 پہلے اس خبر کی تصدیق اوراس شخص کے حالات دریافت کرنے کے لیے میں نے اپنے بھائی کو بھیجا، مگر وہ کوئی تشفی بخش خبر نہ لایا، اس لیے اب میں خود اس سے ملنے آیا ہے، حضرت علیؓ نے فرمایا تم نے نیکی کا راستہ پالیا، سیدھے میرے ساتھ چلے آؤ، جس مکان میں میں جاؤں تم بھی میرے ساتھ چلے آنا، راستہ میں اگر کوئی خطرہ پیش آئے گا،

 

 تو میں جوتا درست کرنے کے بہانے سے دیوار کی طرف ہٹ جاؤں گا اور تم بڑھے چلے جانا، چنانچہ میں حسب ہدایت ان کے ساتھے ہولیا اورآنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ میرے سامنے اسلام پیش کیجئے، آپ نے اسلام پیش کیا اورمیں اسلام کے عقیدت مندوں میں شامل ہوگیا، قبول اسلام کے بعد آپ نے فرمایا ابوذرابھی تم اس کو پوشیدہ رکھو اوراپنے گھر لوٹ جاؤ، میرے ظہور کے بعد واپس آنا، میں نے قسم کھا کر کہاکہ میں اسلام کو چھپا نہیں سکتا،

 

 ابھی لوگوں کے سامنے پکار کر اعلان کروں گا، یہ کہہ کر مسجد میں آیا، یہاں قریش کا مجمع تھا، میں نے سب کو مخاطب کرکے کہا کہ قریشیو! میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد اس کے بندہ اور رسول ہیں، یہ سن کر ان لوگوں نے للکاراکہ اس بے دین کو لینا، اس آواز کے ساتھ ہی چاروں طرف سے لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مارتے مارتے بے دم کردیا، 

 

یہ درد ناک منظر کو دیکھ کر حضرت عباسؓ سے ضبط نہ ہوسکا، وہ مجھ کو بچانے کے لیے میرے اوپر گرپڑے اوران لوگوں سے کہا کہ تم لوگ ایک غفاری کی جان لینا چاہتے ہو ؛حالانکہ یہ قبیلہ تمہاری تجارت کا گذرگاہ ہے، 

 

یہ سن کر سب ہٹ گئے؛لیکن اسلام کا وہ نشہ نہ تھا جس کا خمار قریش کے غیظ و غضب کی ترشی سے اتر جاتا، دوسرے دن پھر اس حق گو کی زبان پر یہ نعرہ مستانہ تھا۔ در عجابہائے طورعشق حکمتہا کم است عشق رابا مصلحت اندیشی مجنوں چہ کار اور پھر وہی مسجد تھی وہی صنادید قریش کا مجمع تھا اور وہی ان کی ستم آرائی تھی۔ 

 

                                                    مراجعت وطن

کچھ دن مکہ میں قیام کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان کو ان کے گھر واپس کردیا، اورفرمایا کہ میں عنقریب یثرب ہجرت کرنے والا ہوں، اس لیے بہتریہ ہے کہ تم اپنی قوم میں کار اسلام کی تبلیغ کرو، شاید خداان کو فائدہ بخشے اوراس صلہ میں تمہیں بھی اجر ملے، 

 

انہوں نے آپ کے حسب ارشاد روانگی کی تیاری شروع کردی اوروطن کا سفر کرنے کے قبل اپنے بھائی انیس سے ملے، انہوں نے پوچھا کیا کرکے آئے، جواب دیا، اعتراف صداقت کرکے اسلام کا حلقہ بگوش ہوگیا ہوں، یہ سن کر وہ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے،

 

 یہاں سے دونوں تیسرے بھائی امنا کے پاس پہنچے، وہ بھی مشرف باسلام ہوئے، اس کے بعد تینوں وطن پہنچے اور دعوتِ حق میں اپنا وقت صرف کرنے لگے، آدھا قبیلہ تو اسی وقت مسلمان ہوگیا اورآدھا ہجرت کے بعد مسلمان ہوا۔ 

                                               ہجرت ومواخاۃ

آنحضرت ﷺ کی مدینہ کی تشریف آوری کے بعد بھی عرصہ تک ابوذرؓ بنی غفار میں رہے اور بدر، احد، خندق، وغیرہ کے غزوات ہونے کے بعد ہجرت کرکے مدینہ آئے، 

 

اسی بناء پر مو اخاۃ میں اختلاف ہے، محمد بن اسحٰق راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ابوذرؓ اور منذر بن عمرو کے درمیان مواخاۃ کرائی تھی؛لیکن واقدی کا قول ہے کہ ابوذرؓ آیت میراث کے نزول کے بعد مدینہ آئے اوراس آیت کے بعد مواخاۃ کا طریقہ باقی نہ رہا تھا۔ 

 

                                                     حلیہ

قددراز، رنگ سیاہی مائل، داڑھی گھنی، سر اورداڑھی دونوں کے بال سفید۔ 

                                                      ترکہ

فقیروں کے کلبہ احزان میں کیا تھا، صرف تین گدھے، دومادہ ایک نر، چند بکریاں، کچھ سواریاں، یہ ساری کائنات تھی۔

                                                 فضل وکمال

حضرت ابوذرؓ خدمت نبویﷺ کے بڑے حاضر باش تھے، ہر وقت آپ کی خدمت میں رہتے اورآپ سے استفادہ اورتحصیل علم میں بڑے حریص تھے اور ہر چیز کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے، چنانچہ تمام اصول و فروع، ایمان اوراحسان، رویت باری، اللہ کے نزدیک پسندیدہ کلمات، لیلۃ القدر وغیرہ ہر چیز حتی کہ نماز میں کنکری چھونے تک کے بارہ میں پوچھا،

 

  اسی ذوق و شوق اورتلاش وجستجو نے آپ کو علم کا دریا بنادیا تھا، حضرت علیؓ جو علم وعمل کے مجمع البحرین تھے، فرماتے تھے کہ ابوذرؓ نے اتنا علم محفوظ کرلیا ہے کہ لوگ اس کے حاصل کرنے سے عاجز تھے، اوراس تھیلی کواس طرح سے بندکردیاکہ اس میں کچھ بھی کم نہ ہوا،

 

  حضرت عمرؓ جیسے صاحب کمال آپ کو علم میں عبداللہ بن مسعودؓ کے برابر سمجھتے تھے، جو اپنی وسعت علم کے لحاظ سے جبر الامۃ کہلاتے تھے۔

 

                                               اخلاق وعادات

حضرت ابوذرؓ ان محرمان خاص میں تھے، جن کو بارگاہِ نبوت میں خاص تقرب حاصل تھا، اس لیے آپ کے ہر فعل و عمل پر خلق نبویﷺ کا بہت گہرا پر توپڑا تھا، صحابہ کرام میں دو قسم کے لوگ تھے، ایک وہ جنہوں نے دین و دنیا دونوں کو پوری طرح حاصل کیا، دوسرے وہ جنہوں نے دنیا کو ٹھکرادیا، 

 

اورمحض آخرت کی نعمتوں پر قناعت کی، حضرت ابوذرؓ اسی دوسری صنف میں تھے، وہ زہد ودرع، حق گوئی وحق پرستی، توکل وقناعت، استغناء وبے نیازی میں تمام صحابہ سے ممتاز تھے، یہ وہ وقت تھا جب قیصر و کسریٰ کے خزانے دارلخلافہ میں لدے چلے آرہے تھے، جگہ جگہ قصر وایوان بن رہے تھے، عیش و تنعم کے سامان ہورہے تھے ؛مگر ان میں سے کوئی چیز بھی رضوان الہی کے اس طالب کو اپنی طرف متوجہ کرنہ سکی، 

 

زروجواہر کے ڈھیران کی نگاہ میں خزف ریزوں سے زیادہ وقعت نہ رکھتے تھے، زر نقد کبھی جمع نہیں کیا، ضرورت سے جو فاضل بچتا، اس کو اسی وقت خرچ کردیتے تھے، چار ہزار وظیفہ مقرر تھا، جب وہ ملتا تو خادم کو بلاتے اورایک سال کے اخراجات کا اندازہ لگا کر چیزیں خرید لیتے، اس سے جتنی رقم فاضل بچتی اس کو لوگوں میں تقسیم کردیتے اور فرماتے کہ جو شخص سونا چاندی تھیلوں میں محفوظ رکھتا ہے، وہ گویا انگارے رکھتا ہے، 

 

 یہ بھی فرماتے تھے کہ میرے دوست ﷺ نے مجھے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص بھی سونا چاندی تھیلوں میں محفوظ کرتا ہے وہ جب تک اس کو اللہ کی راہ میں نہ خرچ کردے، اس کے لیے آگ کا انگارہ رہے گا،  اس پر نہ صرف خود عامل تھے؛

 

بلکہ چاہتے تھے کہ دنیا اسی رنگ میں رنگ جائے اور اس عقیدے میں یہاں تک متشدد تھے کہ بڑے لوگوں سے ملنا تک گوارانہ کرتے، ابوموسیٰ اشعریؓ جو بڑے رتبہ کے صحابی اور مرتبہ میں آپ سے کم نہ تھے، جب عراق کی گورنری کے زمانہ میں ان سے ملے تو قدیم تعلقات کی بناء پر ان سے چمٹ گئے، انہوں نے کہا دور رہو، وہ بھائی بھائی کہہ کر لپکتے تھے اور وہ کہہ کر ہٹاتے تھے کہ تم اس عہدہ کے بعد میرے بھائی نہیں رہے، اس کے بعد پھر ابو موسیٰ ؓ ملے تو پھر محبت کے جذبہ سے مجبور ہوکر بھائی بھائی کہہ دوڑے، 

 

حضرت ابوذرؓ کا پھر وہی جواب تھا، ابھی دور رہو، اس کے بعد سوالات شروع کیے کہ تم لوگوں کے عامل بنائے گئے ہو، انہوں نے کہا ہاں، پوچھا تم نے بڑی عمارت تو نہیں بنائی، زراعت تو نہیں کرتے، گلے تو نہیں رکھتے، انہوں نے کہا نہیں، بولے ہاں اب تم میرے بھائی ہو۔ 

 

ایک مرتبہ ابوذرؓ حضرت ابودرداء انصاریؓ کے پاس سے گذرے تو دیکھا کہ ابودرداءؓ گھر بنوارہے ہیں، یہ دیکھ کر کہا، ابودرداء تم لوگوں کی گردنوں پر پتھراٹھواتے ہو، ابودرداء نے جواب دیا کہ نہیں، گھر بنوارہا ہوں، ابوذرؓ نے پھر وہی فقرہ دہرایا،

 

 حضرت ابودرداء نے کہا برادرم شاید اس سے آپ کو کچھ ناگواری پیدا ہوگئی ہے، حضرت ابوذرؓ نے فرمایا، اگر میں تم کو اس کے بجائے تمہارے گھر کے پاخانہ میں بھی دیکھتا تو اس کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتا۔ 

 

                                                       وفات

حضرت ابوذرؓ کی وفات کا واقعہ بھی نہایت حسرت انگیز ہے، 31ھ میں ربذہ کے ویرانہ میں وفات پائی۔ ان کی حرم محترم وفات کے حالات بیان کرتی ہیں کہ جب ابوذرؓ کی حالت زیادہ خراب ہوئی تو میں رونے لگی، پوچھا کیوں روتی ہو، میں نے کہا کہ تم ایک صحرا میں سفر آخرت کررہے ہو، یہاں میرے اور تمہارے استعمالی کپڑوں کے علاوہ کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے جو تمہارے کفن کے کام آئے، فرمایا رونا موقوف کرو، میں تم کو ایک خوشخبری سناتا ہوں، 

 

میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے کہ جس مسلمان کے دو یا تین لڑکے مرچکےہوں وہ آگ سے بچانے کے لیے کافی ہیں، آپ ﷺ نے چند آدمیوں کے سامنے جن میں ایک میں بھی تھا، یہ فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص صحرا میں مریگا اوراس کی موت کے وقت وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت پہنچ جائے گی، میرے علاوہ ان میں سب آبادی میں مرچکے ہیں، اب صر ف میں باقی رہ گیا ہوں،

 

 اس لیے وہ شخص یقینا ًمیں ہی ہوں اورمیں بحلف کہتا ہوں کہ نہ میں نے تم سے جھوٹ بیان کیا ہے اور نہ کہنے والے نےجھوٹ کہا ہے، اس لیے گذرگاہ پر جاکردیکھو یہ غیبی امداد ضرور آتی ہوگی، میں نےکہا اب تو حجاج بھی واپس جاچکے اورراستہ بند ہوچکا، فرمایا نہیں جاکر دیکھو، چنانچہ میں ایک طرف دوڑ کر ٹیلے پر چڑھ کردیکھنے جاتی تھی اور دوسری طرف بھاگ کران کی تیمارداری کرتی تھی، 

 

اسی دوڑدھوپ اورتلاش وانتظار کا سلسلہ جاری تھا کہ دور سے کچھ سوار آتے دکھائی دیے، میں نے اشارہ کیا، وہ لوگ نہایت تیزی سے آکر میرے پاس ٹھہر گئے اور ابوذرؓ کے متعلق دریافت کیا کہ یہ کون شخص ہے، میں نے کہا ابوذرؓ پوچھا ٓنحضرتﷺ کے صحابی؟ میں نے کہا ہاں؟ وہ لوگ فدیۃ بابی وامی کہہ کر ابوذرؓ کے پاس گئے، 

 

پہلے ابوذرؓ نے آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئی سنائی پھر وصیت کی کہ اگر میری بیوی یا میرے پاس کفن بھر کا کپڑا نکلے تو اسی کپڑے میں مجھ کو کفنانا اورقسم دلائی کہ تم میں سے جو شخص حکومت کا ادنٰی عہدہ دار بھی ہو، وہ مجھ کو نہ کفنائے، اتفاق سے

 

 ایک انصاری نوجوان کے علاوہ ان میں سے ہر شخص کسی نہ کسی خدمت پر مامور رہ چکا تھا ؛چنانچہ انصاری نے کہا کہ چچا میرے پاس ایک چادر ہے، اس کے علاوہ دوکپڑے اور ہیں جو خاص میری والدہ کے ہاتھ کے کتے ہوئے ہیں، ان ہی میں آپ کو کفناؤں گا، فرمایا ہاں تم ہی کفنانا۔ 

اس وصیت کے بعد وفات پائی، متعدد روایتوں کے باہم ملانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ یمنی تھے اور کوفہ سے آرہے تھے،

 

 ان ہی کے ساتھ مشہور صحابی عبداللہؓ بن مسعود بھی تھے، جو عراق جارہے تھے، بہرحال اس انصاری نوجوان نے ان کو کفنایا اور عبداللہ بن مسعودؓ نے نماز جنازہ پڑھائی، اورپھر سبھوں نے مل کر اسی صحرا کے ایک گوشہ میں ان کو پیوند خاک کیا۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author