ابو ایوب انصاری
| ابو ایوب انصاری | |
|---|---|
| (عربی میں: أبو أيوب الأنصاري) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | مدینہ منورہ |
| وفات | سنہ 674 قسطنطنیہ |
| مدفن | ایوب سلطان مسجد |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | صحابی |
| عسکری خدمات | |
| لڑائیاں اور جنگیں | محاصرہ قسطنطنیہ 674ء تا 678ء، غزوہ احد |
ابو ایوب انصاری انصار کے سرکردہ صحابی رسول اور میزبان رسول کہلاتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ہر شخص میزبانی کا شرف حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس جگہ اونٹنی بیٹھے گی۔
وہیں آپ مقیم ہوں گے۔ اونٹنی ابو ایوب انصاری کے دروازے پر بیٹھی۔ ان کا مکان دو منزلہ تھا۔ نبی اکرم نے نیچے قیام فرمایا
نام ونسب
خَالِد بن زيد نام، ابو ایوب کنیت، مدینہ منورہ کے قبیلۂ خزرج کے خاندان نجار سے تھے، سلسلۂ نسب یہ ہے، خالدبن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبد عوف خزرجی،
خاندان نجار کو قبائل مدینہ میں خود بھی ممتاز تھا، تاہم پیغمبر اسلام کی وہاں نانہالی قرابت تھی اس کو مدینہ کے اورقبائل سے ممتاز کر دیا تھا، ابوایوب اس خاندان کے رئیس تھے۔
اسلام
ابوایوب انصاری ان منتخب بزرگان مدینہ میں ہیں، جنھوں نے عقبہ کی گھاٹی میں جاکر پیغمبر اسلام کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی تھی۔ جب مکہ سے دولت ایمان لیکر پلٹے تو ان کی فیاض طبعی نے گوارا نہ کیا کہ اس نعمت کو صرف اپنی ذات تک محدودرکھیں ؛
چنانچہ اپنے اہل و عیال، اعزہ واقربا اوردوست واحباب کو ایمان کی تلقین کی اوراپنی بیوی کو حلقہ اسلام میں داخل کیا۔
حامل نبوت کی میزبانی
خدانے اہل مدینہ کے قبول دعوت سے اسلام کو ایک مامن عطا کردیا اورمسلمان مہاجرین مکہ اوراطراف سے آ آ کر مدینہ میں پناہ گزین ہوئے ؛لیکن جو وجود مقدس قریش کی ستمگاریوں کا حقیقی نشانہ تھا وہ اب تک ستمگاروں کے حلقہ میں تھا،آخر ماہ ربیع الاول میں نبوت کے تیر ہویں سال وہ بھی عازم مدینہ ہوا، اہل مدینہ بڑی بیتابی سے آنحضرتﷺ کی آمد آمد کا انتظار کررہے تھے،انصار کا ایک گروہ جس میں حضرت ابو ایوبؓ بھی تھے روزانہ حرہ تک جو مدینہ سے ۳،۴ میل ہے صبح اٹھ کر جاتاتھااور دوپہر تک حضور کا انتظار کرکے نامراد واپس آتا تھا،
اسی طرح یہ لوگ ایک روز بے نیل مرام واپس ہورہے تھے کہ ایک یہودی نے دور سے آنحضرتﷺ کو قرینہ سے پہچان کر انصار کو تشریف آوری کا مژدہ سنایا،انصار جن میں بنو نجار سب سے پیش پیش تھے ہتھیار سج سج کر خیر مقدم کے لئے آگے بڑھے۔
مدینہ سے متصل قبا نامی ایک آبادی تھی،آنحضرتﷺ کچھ دنوں قبا میں رونق افروز رہے،اس کے بعد مدینہ کا عزم فرمایا،اللہ اکبر! مدینہ کی تاریخ میں یہ عجیب مبارک دن تھا، بنو نجار اور تمام انصار ہتھیاروں سے آراستہ دو رویہ صف بستہ تھے،روساء اپنے اپنے محلوں میں قرینے سے ایستادہ تھے،پردہ نشین خواتین گھر سے باہر نکل آئی تھیں،مدینہ کے حبشی غلام جو ش مسرت میں اپنے اپنے فوجی کرتب دکھارہے تھے اورخاندان نجار کی لڑکیاں دف بجا بجا کر "طلع البدرعلینا" کا ترانہ خیر مقدم گارہی تھیں غرض اس شان وشکوہ سے
آنحضرتﷺ کا شہر میں داخلہ ہوا کہ و داع کی گھاٹیاں مسرت کے ترانوں سے گونج اٹھیں اور مدینہ کے روز نہائے دیوارنے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھا جو اس نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اب ہر شخص منتظر تھا کہ دیکھئے میزبان دوعالمﷺ کی مہمانی کا شرف کس کو حاصل ہو، جدھر سے آپﷺ کا گذر ہوتا لوگ "اَھلا وسھلا مرحبا "کہتے ہوئے آگے بڑہتے اور عرض کرتے کہ حضورﷺ یہ گھر حاضر ہے
؛لیکن کارکنانِ قضا وقدر نے اس شرف کے لئے جس گھر کو تاکا تھا وہ ابو ایوبؓ کا کاشانہ تھا،آنحضرتﷺ نے لوگوں سے فرمایا" خلواسبیلھا فانھا مامورۃ" یعنی اونٹنی کو آزاد چھوڑدو ،وہ خدا کی جانب سے خود منزل تلاش کرلے گی،امام مالک کا قول ہے کہ اس وقت آنحضرتﷺ پر وحی کی حالت طاری تھی اور آپ اپنے قیام گاہ کی تجویز میں حکم الہی کے منتظر تھے،
آخر ندائے وحی نے تسکین کا سرمایہ بہم پہنچایا اورناقہ قصوانے خانۂ ابوایوبؓ کے سامنے سفر کی منزل ختم کی ،حضرت ابوایوبؓ سامنےآئے اور درخواست کی کہ میرا گھر قریب ہے اجازت دیجئے اسباب اتارلوں، امیدواروں کا ہجوم اب بھی باقی تھا اور لوگوں کا اصرار اجازت سے مانع تھا،آخر لوگوں نے قرعہ ڈالا،
ابو ایوبؓ کو اس فخر لازوال کے حصول سے جو مسرت ہوئی ہوگی اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ آنحضرتﷺ حضرت ابوایوبؓ کے گھر میں تقریبا ۶ مہینے تک فروکش رہے ،اس عرصہ میں حضرت ابوایوبؓ نے نہایت عقیدت مندانہ جوش کیساتھ آپ کی میزبانی کی؛ لیکن آپﷺ نے اپنی اور زائرین کی آسانی کی خاطر نیچے کا حصہ پسند فرمایا، ایک دفعہ اتفاق سے کوٹھے پر پانی کا جو گھڑا تھا وہ ٹوٹ گیا چھت معمولی تھی ڈر تھا کہ پانی نیچے ٹپکے اورآنحضرتﷺکو تکلیف ہو،
گھر میں میاں بیوی کے اوڑھنے کے لئے صرف ایک ہی لحاف تھا، دونوں نےلحاف پانی پر ڈال دیا کہ پانی جذب ہوکر رہ جائے،باایں ہمہ یہ تکلیف ان میزبانوں کے لئے کوئی بڑی زحمت نہ تھی کہ اسلام کی خاطر اس سے بڑی بڑی اورشدید تکلیفوں کے تحمل کا وہ عزم کرچکے تھے
،تاہم یہ خیال کہ وہ اوپر اورخود حامل وحی نیچے ہے،ایسا سواہان روح تھا،جس نے حضرت ابوایوبؓ اورام ایوبؓ کو ایک دفعہ شب بھر بیدار رکھا اور دونوں میاں بیوی نے اس سو ادب کے خوف سے چھت کے کونوں میں بیٹھ کر رات بسر کی،صبح حضرت ابو ایوبؓ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوررات کا واقعہ عرض کیااور درخواست کی کہ حضورﷺ اوپر اقامت فرمائیں جان نثار نیچے رہیں گے؛
چنانچہ آنحضرتﷺ نے درخواست منظور فرمالی اوربالاخانہ پر تشریف لے گئے۔ آنحضرتﷺ جب تک ان کے مکان میں تشریف فرمارہے،عموما ًانصار یا خود حضرت ابو ایوبؓ آنحضرتﷺ کی خدمت میں روزانہ کھانا بھیجا کرتے تھے،کھانے سے جو کچھ بچ جاتا آپﷺ حضرت ابوایوبؓ کے پاس بھیج دیتے تھے،
حضرت ابو ایوبؓ آنحضرتﷺ کی انگلیوں کے نشان دیکھتے اورجس طرف سے آنحضرتﷺ نے نوش فرمایا ہوتا وہیں انگلی رکھتے اور کھاتے ،ایک دفعہ کھانا واپس آیا تو معلوم ہوا کہ
حضورﷺ نے تناول نہیں فرمایا،مضطربانہ خدمت اقدس میں پہنچے اورنہ کھانے کا سبب دریافت کیا،ارشاد ہوا کھانے میں لہسن تھا اور میں لہسن پسند نہیں کرتا،حضرت ابوایوبؓ نے کہا"فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَه"جو آپ کو ناپسند ہو یا رسول اللہ ﷺ میں بھی اس کو ناپسند کروں گا۔
مواخات
ہجرت کے بعد آنحضرتﷺنے مہاجرین وانصار کو باہم بھائی بھائی بنادیا،آپﷺ نے حضرت انسؓ کے مکان میں مہاجرین وانصار کو جمع کیا اور اتحادمذاق رتبہ اوردرجہ کے لحاظ سے ایک ایک مہاجر کو ایک ایک انصار کا بھائی بنایا ،اس موقع پر حضرت ابو ایوبؓ انصاری کو جس مہاجر کا بھائی قرار دیا وہ یثرب کے اولین داعی اسلام
حضرت مصعبؓ بن عمیر قریشی تھے،حضرت مصعب ؓ بن عمیر پرجوش صحابی ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر بڑی بڑی سختیاں جھیلی تھیں اور ہجرت نبوی سے پہلے اسلام کے سب سے اول داعی بنا کر آنحضرتﷺ نے ان کو مدینہ بھیجا تھا،
حضرت ابوایوبؓ کی ان سے مواخاۃ یہ معنی رکھتی ہے کہ یہ بھی اپنے اندر اسی قسم کا جوش اور ولولہ رکھتے ہیں اورآخر ان کی زندگی کے واقعات نے اس کو سچ کردیا۔
آل واولاد
حضرت ابو ایوبؓ کی زوجہ کا نام حضرت ام حسن بنت زید انصاریہؓ ہے وہ مشہور صحابیہ تھیں ،ابن سعد کا بیان ہے کہ ان کے بطن سے صرف ایک لڑکا عبدالرحمن تھا،اس حسن خدمت اور محبت کی یادگار میں جو آپ کو آنحضرت ﷺ کی ذات سے تھی،تمام اصحابؓ اوراہل بیت آپ سے محبت وعظمت کے ساتھ پیش آتے تھے،حضرت ابن عباسؓ،حضرت علیؓ کی طرف سے بصرہ کے گورنر تھے،
اسی زمانہ میں آپ حضرت ابن عباسؓ کی ملاقات کو بصرہ تشریف لے گئے ابن عباسؓ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ جس طرح آپ نے آنحضرتﷺ کی اقامت کے لئے اپنا گھر خالی کردیا تھا، میں بھی آپ کے لئے اپنا گھر خالی کردوں اوراپنے تمام اہل وعیال کو دوسرے مکان میں منتقل کردیا اور مکان مع اس تمام سازوسامان کے جو گھر میں موجود تھا آپ کی نذر کردیا۔
فضل وکمال[ترمیم]
حضرت ابوایوبؓ کا فضل وکمال اس قدر مسلم تھا کہ خود صحابہ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے،حضرت ابن عباسؓ، ابن عمرؓ، براء بن عازبؓ،انس بن مالکؓ، ابوامامہؓ ،زید بن خالدؓ جہنی،مقدامؓ بن معدی کرب، جابر بن سمرہؓ، عبداللہ بن یزید خطمی وغیرہ جو آنحضرتﷺ کے تربیت یافتہ تھے،
حضرت ابو ایوبؓ کے فیض سے بے نیاز نہیں تھے،تابعین میں سعید بن مسیب ،عروہ بن زبیر، سالم بن عبداللہ،عطاءبن یسار،عطا بن یزید لیثی،ابوسلمہ عبدالرحمن بن ابی لیلی،بڑے پایہ کے لوگ ہیں،تاہم وہ حضرت ابوایوبؓ کے عام ارادتمندوں میں داخل تھے۔
حضرت ابوایوبؓ کو فضل وکمال میں مرجعیت عامہ حاصل تھی،صحابہ کرامؓ جب کسی مسئلہ میں اختلاف کرتے تو ان کی طرف رجوع کرتے تھے،ابن عباسؓ اورمِسوربن مخرمہ میں اختلاف ہوا کہ محرم حالت جنابت میں غسل کرتے وقت سر ہاتھ سے مل سکتا ہے یا نہیں، ابن عباسؓ کا خیال تھا سر دھوسکتا ہے،
مگر مِسور کہتے تھے کہ سردھونا جائز نہیں ،دونوں بزرگوں نے عبداللہ بن حسین کو حضرت ابو ایوبؓ کی خدمت میں بھیجا، حسن اتفاق یہ کہ وہ اس وقت غسل ہی کررہے تھے، عبداللہ نے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے اپنا سر باہر نکال کر ملنا شروع کیا اورفرمایا کہ دیکھو آنحضرتﷺ اسی طرح غسل کرتے تھے۔
وفات
آپ کی وفات 42ھ 662ء میں ہوئی سفر جہاد میں عام وبا پھیلی اور مجاہدین کی بڑی تعداد اس کے نذر ہو گئی، ابوایوب بھی اس وبا میں بیمار ہوئے، یزید عیادت کے لیے گیا اور پوچھا کہ کوئی وصیت کرنی ہو تو فرمائیے تعمیل کی جائے گی، آپ نے فرمایا تم دشمن کی سرزمین میں جہاں تک جاسکو میرا جنازہ لیجا کر دفن کرنا، چنانچہ وفات کے بعد اس کی تعمیل کی گئی،
تمام فوج نے ہتھیار سج کر رات کو لاش قسطنطنیہ کی دیواروں کے نیچے دفن کی، نماز میں جس قدر مسلمان فوجی شامل تھے دفن کرنے کے بعد یزید نے مزار کے ساتھ کفار کی بے ادبی کے خوف سے اس کو زمین کے برابر کرادیا، صبح کو رومیوں نے مسلمانوں سے پوچھا کہ رات آپ لوگ کچھ مصروف سے نظر آتے تھے،
بات کیا تھی، مسلمانوں نے کہا کہ ہمارے پیغمبر کے ایک بڑے جلیل القدر دوست نے وفات پائی، ان کے دفن میں مشغول تھے؛ لیکن جہاں ہم نے دفن کیا ہے تمہیں معلوم ہے، اگر مزار کے ساتھ کوئی گستاخی تمہاری طرف سے روا رکھی گئی تویاد رکھو اسلام کی وسیع الحدود حکومت میں کہیں ناقوس نہ بچ سکے گا۔
You must be logged in to post a comment.