عبداللہ بن عمر
عبد الله بن عمر خلیفہ دوم عمر ابن الخطاب کے صاحبزادے تھے۔ حبر الامۃ (امت کا بڑا عالم) لقب ہے۔
نام ونسب
عبدالله نام ، ابوعبدالرحمن کنیت، آبائی سلسلہ نسب یہ ہے، عبداللہ بن عمر بن خطاب ابن نفیل بن عبدالعزی بن رباح بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر، ماں کا نام زینب تھا، نانہالی نسب نامہ یہ ہے، زینب بنت مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن حمح بن عمرو بن حصین۔
ولادت
۳ھ یہ صحیح روایت سے ثابت ہے کہ حضرت ابن عمر غزوۂ احد میں جو میں پیش آیا ، چودہ برس کے تھے، اس حساب سے ان کی پیدائش کا تخمینی زمانہ بعثت کا دوسرا سال ہے اور 6نبوی میں جب حضرت عمر مشرف بہ اسلام ہوئے تو ابن عمر کا سن تقریبا پانچ برس کا ہوگا۔
اسلام
حضرت عبدالله بن عمر نے ہوش سنبھالا ہی تھا کہ اپنے گھر کے درودیوار پر اسلام کو پر تو فگن دیکھا اور اسلام ہی کے دامن مکیں ان کی نشو نما ہوئی، بعض روایتوں میں ہے کہ وہ اپنے والد بزرگوار سے پہلے مشرف باسلام ہوئے تھے مگر صحیح یہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد بزرگوار کے ساتھ اس طرح اسلام قبول کیا تھا جس طرح خاندان کے بڑے بزرگ کے تبدیل مذہب کے گھر کے کمسن بچے بھی غیر شعوری طورسے اپنے مذہب کو بدل ڈالتے ہیں ،جن غیر معتبر راویوں نے حضرت ابن عمر کے اسلام کا واقعہ نقل کیا ہے ،درحقیقت ان کو بیعتِ رضوان کے واقعہ کے ساتھ التباس ہوا ہے، صحیح بخاری میں خود حضرت ابن عمر کی زبانی منقول کہ جب میرے باپ ہے
مسلمان ہوئے تو میں چھوٹا بچہ تھا، ظاہر ہے کہ ایک چھوٹا بچہ حق وباطل کی تمیز کی وہ دقتِ نگاہ نہیں رکھتا،جواس زمانہ میں اس کو کسی مذہب کے بذات خود ردوقبول پر آمادہ کرسکے۔
ہجرت
انوار اسلام کی چمک کے ساتھ ساتھ مشرکین کے ظلم وطغیان کی گرج بھی برابر بڑھتی گئی اورحضرت عمر اوران کا خاندان بھی ان کی ستم کیشیوں سے محفوظ نہ رہا، اس لیے حضرت عمر نے بھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہجرت کی۔
غزوہ بدر
ہجرت کے بعد حق وباطل کی پہلی آویزش غزوۂ بدر ہے، اس وقت ابن عمر کی عمر کل ۱۳ سال کی تھی، تاہم جانبازی کے شوق میں شرکت کی درخواست کی،صغير السن ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے قبول نہ فرمائی۔
غزوہ احد
میں اس کے ایک سال بعد، دوسرا معرکہ احد ہوا، اس میں بھی انہوں نے اپنا نام پیش کیا ،مگر چونکہ چودہ سال سے متجاوز نہیں ہوئے تھے، اس لیے اس مرتبہ بھی ان کی درخواست مسترد ہوگئی۔
غزوہ خندق
احد کے دو سال بعد ۵ھ غزوۂ خندق میں ان کی عمر پندرہ سال پوری ہوچکی تھی؛ چنانچہ یہی وہ سب سے پہلا معرکہ ہے جس میں ان کو سرکاررسالت سے شرکت کی اجازت ملی۔
بیعت رضوان
٦ھ میں سے حدیبیہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ کے ہم رکاب ہوئے اوربیعت رضوان کا بھی شرف حاصل کیا اورحسن اتفاق یہ کہ یہ شرف اپنے پدر عالی قدر پہلے حاصل کیا، اس کی صورت یہ پیش آئی کہ کے دن حضرت عمر نے عبداللہ کو ایک انصاری کے پاس گھوڑا لانے کے لیے بھیجا تھا کہ جہاد میں وہ اس پر سوار ہوسکیں، عبداللہ باہر نکلے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ صحابہ سے بیعت لے رہے ہیں،چنانچہ انہوں نے پہنچ کر پہلے خود بیعت کی اور اس کے بعد گھوڑا لے کر گئے اورحضرت عمر کو اس کی اطلاع دی، انہوں نے بھی جاکر بیعت کا شرف حاصل کیا۔
فتح مکہ
قریش اوراسلام کی فتح وشکست کا آخری معرکہ فتح مکہ تھا، اس وقت ابن عمر کی عمر۲۰ سال کی تھی، پورے جوان ہوچکے تھے اور ایک سرفروش مجاہد کی حیثیت سے دوسرے مجاہدین کے دوش بدوش تھے، سامان ِجنگ میں ایک تیز رفتار گھوڑا اورایک بھاری نیزہ تھا جسم پر ایک چھوٹی سی چادر تھی اورخوداپنے ہاتھ سے گھوڑے کے لیے گھانس کاٹ رہے تھے اس حالت میں آنحضرت ﷺ کی نظر پڑی تو تعریف کے لہجہ میں فرمایاکہ عبداللہ ہے عبداللہ، فتح کے بعد خانہ کعبہ میں آنحضرت ﷺ کے پیچھے پیچھے داخل ہوئے، چنانچہ ان کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ اونٹ پر سوار مکہ کے بالائی حصہ کی طرف سے داخل ہوئے تھے اسامہ بن زید ان کے ساتھ سوار تھے، عثمان بن طلحہ“ اوربلال” جلو میں تھے، خانہ کعبہ کے صحن میں اونٹ بٹھاکر کنجیاں منگائیں اورکعبہ کھول کر تینوں ایک ساتھ داخل
ہوئے، ان لوگوں کے بعد سب سے پہلا داخل ہونے والا میں تھا
غزوہ حنین
سلسلہ میں فتح مکہ کے بعد غزوۂ حنین میں بھی صف آرا تھے، چنانچہ حنین کی واپسی کے بعد کے واقعات کے کہتے ہیں کہ جب ہم غزوہ حنین سے لوٹے تو حضرت عمر نے اعتکاف کی نذر کے متعلق پوچھا جو جاہلیت کے زمانہ میں مانی تھی، آنحضرت ﷺ نے اُس کے پورا کرنے کا حکم دیا۔
محاصرہ طائف
اس کے بعد طائف کا محاصرہ ہوا، اس محاصرہ میں بھی ابن عمر پیش پیش تھے، چنانچہ اس محاصرہ کے واقعات بیان کرتے تھے کہ جب محاصرہ میں مسلمانوں کو کامیابی نہ ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ انشا الله کل محاصرہ اٹھا کر واپس ہوجائیں گے، یہ ارشاد لوگوں پر گراں گذرا انہوں نے عرض کیا، کیا بغیر فتح کیے ہوئے لوٹ چلیں؟ آپ نے فرمایا اچھا کل پھڑ لڑلو، چنانچہ دوسرے دن لڑے اور فتح کے بجائے الٹے زخمی ہوئے، آپ نے پھر فرمایا کہ انشاء الله كل واپس جائں گے، اس مرتبہ لوگوں نے بخوشی منظور کرلیا، اس پر آپ مسکرادیے۔
حجتہ الوداع
حجتہ الوداع آنحضرت ﷺ کا آخری حج تھا، اس میں مسلمانوں کا جم غفیر آپ کے ہمرکاب تھا، حضرت ابن عمر بھی اس شرف میں شریک تھے، چنانچہ حجۃ الوداع کے واقعات میں ان کا بیان ہے کہ حجۃ الوداع میں آنحضرت ﷺ اوربعض صحابہ نے بال منڈائے تھے اوربعضوں نے صرف ترشوانے پر اکتفا کی تھی۔
غزوہ تبوک
۹ھ میں غزوۂ تبوک پیش آیا، اس میں آنحضرت ﷺ نے 30 ہزار کی جمعیت کے ساتھ رومیوں کے مقابلہ کے لیے تبوک کا رخ کیا تھا، حضرت ابن عمر اس میں بھی شریک تھے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ حجر ،(قدیم اقوام عادو ثمود کی آبادیاں) کی طرف گذرے تو فرمایا ان لوگوں کے مسکن میں داخل نہ ہو جنہوں نے (خدا کی نافرمانی کرکے) اپنے اوپر ظلم کیا کہ مباداتم بھی اس عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤ جس میں وہ مبتلا ہوئے، اگر گذرنا ہے توخشیت الہی سے روتے ہوئے گذرجاؤ۔ غرض غزوۂ خندق سے لے کر آخر تک آنحضرت ﷺ کی زندگی میں کوئی ایسی بڑی مہم نہ تھی جس میں انہوں نے شرکت کی عزت حاصل نہ کی ہو۔
لباس
لباس بہت معمولی پہنتے تھے، عموماً قمیص، آزار اور سیاہ عمامہ استعمال کرتے تھے، چپل پہنتے تھے،ازار نصف ساق تک ہوتا تھا،رنگوں میں زرد رنگ استعمال کرتے تھے کہ خود حضورﷺ کو بھی یہ رنگ پسند تھا،کبھی کبھی بیش قیمت لباس بھی پہن لیتے تھے،نافع کہتے نے ان کو پانسو تک کی چادر اوڑھے دیکھا ہے،انگوٹھی بھی رکھتے تھے جس پر عبدالله بن عمر کندہ تھا، مگر وہ صرف مہر وغیرہ کے وقت کام آتی تھی، پہنتے نہ تھے۔
حلیہ
شکل وصورت میں وہ اپنے والد بزرگوار سے بہت مشابہ تھے اوردراز قامت اور بھاری بھرکم تھے،رنگ گندمی تھا،کندھوں تک کاکلین تھیں،کبھی کبھی مانگ بھی نکالا کرتے تھے،داڑھی بقدر ایک مشت رکھتے تھے،موچھیں اس قدر گہری کترواتے تھے کہ لبوں کی سپیدی نمایاں ہوجاتی تھی زرد خضاب کرتے تھے۔
محبت نبوی ﷺ
[149] آنحضرت ﷺ کی محبت ان کا سرمایہ حیات اورجان حزین کی تسکین کا باعث تھی، آپ کی وفات کے بعد ایسے شکستہ دل ہوئے کہ اس کے بعد نہ کوئی مکان بنایا اورنہ باغ لگایا، وفات نبوی ﷺ کے بعد جب آپ کا ذکر آتاتو بے اختیار روپڑتے،
فضل وكمال
حضرت ابن عمر کو آنحضرت ﷺ کی صحبت آپ کی بارگاہ کی دائمی حاضر باشی،سفروحضر کی ہمرکابی،فاروق اعظم کی تعلیم وتربیت اورخود ان کی تلاش وجستجو نے مذہبی علوم کا دریا بنادیا تھا،قرآن ،تفسیر، حدیث،فقہ وغیرہ تمام مذہبی علوم کا بحر بے کران تھے ،آپ کا شمار علمائے مدینہ کے اس زمرہ میں تھا جوعلم و عمل کے مجمع البحرین سمجھے جاتے تھے۔
فقہ
حدیث کے بعد فقہ کا درجہ ہے کہ اسی پر تشریع اسلامی کا دارومدار ہے، حضرت ابن عمر کو تفقہ فی الدین میں درجہ کمال حاصل تھا،آپ کی ساری عمر علم وافتا میں کئی،مدینہ کے ان مشہور صاحب فتاویٰ صحابۂ میں جن کے فتاوی کی تعداد زیادہ ہے،ایک ابن عمرؓ بھی تھے،
فقہ مالکی جوائمہ اربعہ میں سے ایک امام کی فقہ ہے، اس کا تمام تر دارومدار حضرت ابن عمرؓ کے فتاوی پر ہے، اس بنا پر امام مالک فرماتے تھے کہ ابن عمر” ائمہ دین میں تھے ابن عمر کے فتاوی جمع کئے جائیں تو ایک ضخیم جلد تیار ہوسکتی ہے ،[77] کبار کی رائے ہے کہ تنہا ابن عمر کے اقوال ، اسلامی مسائل کے استفتاء کے لیے کافی ہیں۔
حدیث
تفسیر قرآن کے بعد حدیث نبوی ﷺ کا درجہ ہے، ابن عمر کا شمار اساطین حفاظ حدیث میں ہے،اگر ان کی مرویات کی تعداد حدیث کی کتابوں سے علیحدہ کرلی جائے تو ان کے بہت سے اوراق سادہ رہ جائیں گے، ان کی مجموعی تعداد 1630 ہے، ان میں 120 متفق علیہ ہیں اور ۸۱ میں بخاری اور۳۱ میں مسلم منفرد ہیں۔
حدیث کی طلب وجستجو اورافعال نبوی ﷺ
،ان لوگوں سے جو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہا کرتے تھے پوچھ لیا کرتے تھے اوران کو یادرکھتے تھے
اگر کوئی ایسی حدیث یا ایسا مسئلہ سنتے، جو ان کے علم میں نہ ہوتا، تو فوراً خود آنحضرت ﷺ یا حدیث کے راوی کے پاس جاکر اس کی تصدیق کرتے ، ایک مرتبہ کسی نے ایک ابن عمر کو حدیث نبوی ﷺ کا اتنا شوق اوراس کی اس قدر جستجو تھی کہ اپنی غیر حاضری کے اقوال مسئلہ بیان کیا، جو ان کے علم میں نہ تھا، فوراً خدمت نبوی حاضر ہوکر اس کی تصدیق کی،
ایک مرتبہ ایک لیثی نے ابو سعید خدری کے حوالہ سے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے سونا چاندی میں کی بیع صرف اس صورت میں جائز رکھی ہے کہ برابر ہو،ان کو اس کا علم نہ تھا، اس لیے ابو سعید خدری کے پاس جاکر اس کی تصدیق کی۔
صدقات وخیرات
صدقہ وخیرات حضرت ابن عمر کا نمایاں وصف تھا، ایک ایک نشست میں بیس بیس ہزار تقسیم کردیتے تھے، دو دو تین تین ہزار کی رقمیں تو عموماً خیرات کیا کرتے تھے، بسا اوقات یکمشت ۳۰ ہزار کی رقم خدا کی راہ میں لٹادی
قرآن پاک میں خدا میں نیکوکاری کے لیے محبوب چیز خدا کی راہ میں دینے کی شرط ہے، "لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون" حضرت ابن عمر اس آیت کی عملی تفسیر تھے، آپ ہمیشہ اپنی پسندیدہ چیزوں کو راہ خدا میں دیدیتے تھے،چنانچہ جو غلام آپ کو پسند ہوتا اس کو راہ آزاد کردیتے اورآپ کی نظر میں وہ غلام پسندیدہ ہوتا، جو عبادت گذار ہوتا، غلام اس راز کو سمجھ گئے تھے، اس لیے وہ مسجدوں کے ہورہتے
حضرت ابن عمر اس کے ذوق عبادت کو دیکھ کر خوش ہوتے اورآزاد کردیتے ،آپ کے احباب مشورہ دیتے کہ آپ کے غلام آپ کو دھوکہ دیتے ہیں اور صرف آزادی کے لیے یہ دینداری دکھاتے ہیں، آپ فرماتے ،"من خد عنابالله انخد عنالہ" جو شخص ہم کو خدا کے ذریعہ سےدھوکہ دیتا ہے ہم اس کا دھوکہ کھا جاتےہیں
آپ کو ایک لونڈی بہت محبوب اس کو راہ خدا میں آزاد کرکے اپنے ایک غلام کے ساتھ بیاہ دیا، اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا، لڑکے کو آپ چومتے اورفرماتے کہ اس سے کسی کی بوآتی ہے، (اصابہ : ۴/۱۰۹) اسی طریقہ سے ایک دوسری چہیتی لونڈی کو آزاد کردیا اورفرمایا "لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون"
آپ اس کثرت سے غلام آزاد کرتے تھے کہ آپ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہوگئی تھی، ایک مرتبہ انہوں نے نہایت عمدہ اونٹ خریدا اورسوار ہوکر حج کو چلے، اتفاق سے اس کی چال بہت پسند آئی، فوراً اتر پڑے اورحکم دیا کہ سامان اتارلو اوراس کو قربانی کے جانوروں میں داخل کردو۔

You must be logged in to post a comment.