How did our elders happen?

*سیرت امام اعظم*

1

نام و نسب:

اسم گرامی: نعمان۔ 

لقب: امام اعظم، سراج الامۃ، کاشف الغمہ۔

سلسلہ نسب اسطرح ہے: حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان بن ثابت بن قیس بن یزد گرد بن شہر یار بن پرویز بن نوشیرواں عادل۔

(حدائق الحنفیہ:42/خزینۃ الاصفیاء:90)

 

*شرفِ تابعیت*

حضرت امام صاحب رضی اللہ عنہ کی خوش نصیبی تھی کہ آپ نےاس مبارک زمانہ میں آنکھ کھولی جس میں رسول اللہﷺ کے جمال جہاں آراء کی زیارت کرنے والے کئی حضرات حیات تھے۔ 

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےصَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک جماعت سے مُلاقات کا شَرَف حاصل فرمایا، جن میں سے حضرت سیّدنا انس بن مالک،حضرت سیّدناعبداللہ بن اوفیٰ، حضرت سیّدنا سہل بن سعد ساعدی اور حضرت سیّدنا ابوالطفیل عامر بن واصلہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا نام سرفہرست ہے۔ یوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو تابعی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔

شرح مسند ابی حنیفۃ لملاعلی قاری، ص581

 

*اساتذہ*

امام ابوحفص نے آپ کے اساتذہ کی تعداد چار ہزار بتائی ہے  

 آپ کے مشہور اساتذہ میں حضرت امام حماد ،امام زید بن علی زین العابدین ، حضرت امام جعفر صادق ،حضرت عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی،امام شعبی، عکرمہ تلمیذ ابن عباس، نافع تلمیذ ابن عمر رضی اللہ عنہم اجمعین۔

 

*آپکے تلامذہ*

آپ فقہ اور حدیث دونوں میدانوں میں امام الائمہ تھے۔

 

حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے ایک ہزار کے قریب شاگرد تھے جن میں چالیس افراد بہت ہی جلیل المرتبت تھے اور وہ درجۂ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے مشیرِ خاص بھی تھے۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں :

 

1۔ امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ علیہ

 

2۔ امام محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اﷲ علیہ

 

3۔ امام حماد بن ابی حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ

 

4۔ امام زفر بن ہذیل رحمۃ اﷲ علیہ

 

5۔ امام عبد اﷲ بن مبارک رحمۃ اﷲ علیہ

 

6۔ امام وکیع بن جراح رحمۃ اﷲ علیہ

 

7۔ امام داؤد بن نصیر رحمۃ اﷲ علیہ

 

آپ کی چند مشہور کتابیں درج ذیل ہیں :

 

الفقه الأکبر، الفقه الأبسط، العالم والمتعلم، رسالة الإمام أبي حنيفة إلی عثمان البتّی، وصية الامام أبي حنيفة.

 

علاوہ ازیں قرآن حکیم کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح البخاری کے مؤلف امام محمد بن اسماعیل بخاری اور دیگر  بڑے محدثین کرام رحمہم اﷲ آپ کے شاگردوں کے شاگرد تھے۔

 

*مختلف محدثین وفقہا کا آپکی شان بیان کرنا*

امام عبداللہ بن داؤد فرماتے ہیں: لا یتکلم فی ابی حنیفۃ الا احد رجلین اما حاسد لعلمہ واما جاھل بالعلم لایعرف قدر حملتہ

ابو حنیفہ پر ردوقدح کرنے والا یا تو ان کے علم سے حسد کرنے والا ہے یا علم کے مرتبہ سے جاہل ہے وہ علم کے حاملوں کی قدر سے بے خبر ہے۔ 

(اخبار ابی حنیفۃ،ص۵۴)

 

امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرمایا کرتے تھے

جو آدمی فقہ ماہر ہونا چاہیے وہ امام ابو حنیفہ کا محتاج ہوگا یہ بھی فرمایا کہ میں ابو حنیفہ سے بڑا فقیہ کسی کو نہیں جانتا اور لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے عیال ہیں، جس نے امام ابوحنیفہ کی کتابیں نہیں دیکھیں وہ علم میں ماہر نہیں ہوسکتا اور نہ فقیہ ہو سکتا ہے۔

(عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفۃ لنعمان)

 

روضۂ اقدس سے سلام کا جواب: جب امام صاحب رضی اللہ عنہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا: السلام علیک یا رسول اللہ 

تو جواب ملا:

علیک السلام یا امام المسلمین۔

(خزینۃ الاصفیاء:91)

 

مشہور محدث حفص بن عبدالرحمان فرماتے ہی 

کہ امام ابو حنیفہ نے تیس سال تک ایک رات میں پورا قرآن پڑھ کر قیام لیل فرمایا تیس سال برابر روزے رکھے۔ قاضی ِبغداد حسن بن عمارہ نے وفات کے بعد آپ کو غسل دیا اور فرمایا تم پر اللہ رحم فرمائے، تین سال سے افطار نہیں کیا اور چالیس سال سے رات کو کروٹ نہ لی ہم میں تم سب سے زیادہ فقیہ تھے اور سب سے زیادہ عبادت گذار تھے اور ہم میں سب سے زیادہ بھلائی کی خصلتوں کو جمع کرنے والے تھے اور جب دفن ہوئے تو بھلائی اور سنت کے ساتھ دفن ہوئے۔

(حیاتِ محدثین:25)

 

حضرت امام عبدالعزیز بن ابی رواد فرماتے ہیں: 

آپ سے محبت اہل سنت کی علامت ، اور آپ سے بغض اہل بدعت کی علامت ہے۔

(سیر اعلام النبلاء:ج 6،ص 536)

 

حضرت ابن ِ مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے حَضْرتِ سیِّدُنا سُفْیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی سےآپ کے اِس وصف کا تذکرہ یوں کیا: امامِ اعظم ابُوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ غیبت سےاتنےدُور رہتے ہیں کہ میں نے کبھی ان کو دُشْمن کی غیبت کرتے ہوئے بھی نہیں سُنا۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ،ص:42)

 آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ رضائےالٰہی کو ہر شئی پر ترجیح دیتے۔ (تہذیب الاسماء، 2/503، 506، اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ص42)

 آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ علماو مشائخ کی اعانت پر زرِّ کثیر خرچ فرماتے۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ،ص 42)

 

آپ کے حسن اخلاق سے متعلق حَضْرت بُکَیْر بن مَعْرُوْف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں:میں نےاُمَّتِ مصطفےٰ میں امام ابُو حنیفہ سے زیادہ حُسْنِ اَخْلاق والا کسی کو نہیں دیکھا۔ (الخیرات الحسان، ص56)

 

لاکھوں شافعیوں کے امام حضرت سیّدنا امام شافِعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نےبغداد میں قیام کےدوران ایک معمول کا ذکر یوں فرمایا: میں امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سےبرکت حاصِل کرتا ہوں، جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو دو رَکعَت پڑھ کر ان کی قَبْرِمبارک کے پاس آتا ہوں اور اُس کے پاساللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے۔آج بھی بغدادشریف میں آپ کا مزارِ فائضُ الاَنْوار مَرجَعِ خَلائِق ہے 

مناقب الامام الاعظم، 2/216،سیراعلام النبلاء، 6/537،اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ص 94،الخیرات الحسان ، ص 94

 

امام ِاعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم دن بھر علمِ دین کی اِشاعت، ساری رات عبادت ورِیاضت میں بَسرفرماتے۔آپ نے مسلسل تیس سال روزے رکھے،تیس سال تک ایک رَکعَت میں قراٰنِ پاک خَتْم کرتے رہے، چالیس سال تک عِشا کے وُضُو سے فجر کی نَماز ادا کی، ہر دن اور رات میں قراٰن پاک ختم فرماتے، رمضان المبارک میں 62قراٰن ختم فرماتے اور جس مقام پر آپ کی وفات ہوئی اُس مقام پر آپ نے سات ہزاربار قراٰنِ پاک خَتْم کئے۔(الخیرات الحسان، ص50)

*تاریخ وصال*

 آپ کا وصال 2/شعبان المعظم 150ھ کو ہوا۔آپ کا مزار "اعظمیہ" عراق میں منبعِ فیوض وبرکات ہے۔

(سیرت امام اعظم:93/ علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ)

 

ابوحذیفہ مدنی

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author