حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے کچھ پہلے چھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی تھی
جس کے ذمے خلیفہ کا انتخاب تھا۔
انتخاب کے وقت عشرہ مبشرہ کے تین صحابہ ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم وفات پا چکے تھے جبکہ سات ابھی باقی تھے۔
ان میں سے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ چونکہ حضرت عمر کے بہنوئی اور قریبی رشتہ دار تھے اور خلافت کے امور میں دلچسپی بھی نہ رکھتے تھے،
اس وجہ سے آپ نے انہیں اس کمیٹی میں شامل نہ کیا بلکہ بقیہ چھ صحابہ علی، عثمان، عبدالرحمن بن عوف، طلحہ، زبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کو اس کمیٹی میں شامل کیا۔
اس میں بطور مبصر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شامل کیا گیا لیکن وہ خلیفہ کے انتخاب میں ووٹ نہیں دے سکتے تھے۔
ہاں انہیں یہ اجازت ضرور تھی کہ اگر دو افراد کے حق میں تین تین ووٹ آ جائیں تو وہ اس جانب ووٹ دیں گے، جس میں عبدالرحمن رضی اللہ عنہ شریک ہوں گے۔
ایسا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عمر جانتے تھے کہ عبدالرحمن خلافت کے امیدوار نہیں ہیں اور اس معاملے میں کسی شخص کے حق میں جانبدار بھی نہیں ہیں۔
اس معاملے میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں
خلیفہ کے انتخاب کو چھ افراد کے سپرد کرنا کیا شوری کے اصول کی خلاف ورزی تھی؟
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے انتخاب کو چھ افراد ہی میں کیوں رکھا؟
کیا یہ شوری کے اصول کی خلاف ورزی نہ تھی؟
ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہی یہ طے ہو چکا تھا کہ خلیفہ قریش میں سے ہو گا
کیونکہ عرب قبائل ان کے سوا کسی اور قبیلے کے شخص کو بطور خلیفہ قبول نہ کریں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بھی یہی صورتحال باقی تھی۔
اب قریش کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اپنے اندر سے کس شخص کو خلیفہ کے طور پر منتخب کرتے۔
یہ بالکل ایسا ہی معاملہ تھا جیسے ہمارے دور میں اگر ایک پارٹی کی حکومت ہو اور سربراہ حکومت وفات پا جائے تو دوبارہ انتخابات کی بجائے پارلیمنٹ نئے سربراہ کا انتخاب کر لیتی ہے۔ قریش کی حکومت کو سبھی عرب تسلیم کرتے تھے اور اب مہاجرین ہی نے فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اپنے میں سے کسے خلیفہ منتخب کرتے ہیں۔
اس انتخاب کا معیار دینی خدمات تھیں۔ ان خدمات میں وہی صحابی ممتاز تھے ،
جنہوں نے بالکل شروع سے اسلام کے لیے قربانیاں دی تھیں اور جو السابقون الاولون کہلاتے تھے۔
ان سابقون الاولون میں عشرہ مبشرہ کے صحابہ کو غیر معمولی مقام حاصل تھا جن میں سے سات صحابہ اس وقت زندہ تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے پورے زمانے میں اپنی جانشینی کے معاملے میں متردد رہے تھے۔ ان کی نظر میں دو صحابہ ایسے تھے جو اگر خلیفہ بنتے تو کسی تو اختلاف نہ ہوتا۔
ان میں سے ایک حضرت ابوعبیدہ تھے اور دوسرے ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہم۔
لیکن یہ دونوں حضرات، حضرت عمر سے بھی پہلے شہید ہو چکے تھے۔
آپ نے طویل عرصے تک غور و خوض کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ خلافت کے معاملے میں اگر لوگوں میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے تو وہ صرف انہی چھ افراد کے بارے میں ہو سکتا ہے۔
ان کے علاوہ کوئی ایسا ساتواں شخص نہیں ہے جسے لوگ خلیفہ بنانا چاہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آپ نے انہی چھ افراد کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا کہ وہ اپنے میں سے کسی ایک کو خلیفہ منتخب کر لیں۔
شوری نے خلیفہ کا انتخاب کیسے کیا؟
چھ صحابہ کی اس کمیٹی نے شورائی انداز میں کام کیا اور ایسے کردار کا مظاہرہ کیا جو ان کے شایان شان تھا۔
حضرت طلحہ اس وقت مدینہ میں موجود نہ تھے۔ ان کا تین دن انتظار کیا گیا مگر وہ نہ آئے اور جب آئے تو انہو ں نے خوشدلی سے حضرت عثمان کو بطور خلیفہ قبول کر لیا۔ بعض روایات کے مطابق وہ آ گئے تھے اور حضرت عثمان کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے۔
حضرت زبیر ، سعد اور عبدالرحمن دستبردار ہو گئے۔ ان صحابہ کا کردار اس معاملے میں غیر معمولی تھا کہ چار صحابہ تو خود ہی دستبردار ہو گئے جس سے ان کی بے غرضی کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت عثمان سے پوچھا گیا کہ آپ خلیفہ نہ بنیں تو کسے بنایا جائے تو انہوں نے حضرت علی کا نام لیا۔ یہی سوال حضرت علی سے کیا گیا تو انہوں نے حضرت عثمان کا نام لیا۔
حضرت عثمان اور علی نے متفقہ طور پر حضرت عبدالرحمن کو اجازت دی کہ وہ عوام الناس کی رائے معلوم کریں۔
انہوں نے مدینہ کے ہر ہر شخص کے علاوہ حج سے واپس آنے والے دیگر قبائل کے لوگوں کی رائے معلوم کی۔
اکثریت کی رائے حضرت عثمان کے حق میں تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے حضرت عثمان کو خلیفہ بنانے کا اعلان کر دیا۔
یہ تفصیل صحیح بخاری کی روایت میں بیان ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ روایت حضرت مسور بن مخرمہ کی بیان کردہ ہے جن کی ذاتی رائے یہ تھی کہ خلیفہ حضرت علی کو ہونا چاہیے۔ رضی اللہ عنہم۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن أسماء: حدثنا جويرية، عن مالك، عن الزُهريِّ: أنَّ حميد بن عبد الرحمن أخبره: أنَّ المسور بن مخرمة أخبره: مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ (چھ) افراد جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کا اختیار دیا تھا،
جمع ہوئے اور انہوں نے مشورہ کیا۔ عبدالرحمن (بن عوف) نے ان سے کہ
اس معاملے میں میں آپ سے تنازعہ نہیں کروں گا
یعنی میں خلیفہ نہیں بنوں گا.
اگر آپ چاہیں تو آپ ہی میں سے کسی کو آپ کا خلیفہ منتخب کر دوں۔
چنانچہ ان لوگوں نے یہ معاملہ عبدالرحمن پر چھوڑ دیا۔
جب ان لوگوں نے عبد الرحمن کو ذمہ داری دی تو بقیہ لوگوں میں سے کسی کے پاس ایک آدمی بھی نظر نہیں آتا تھا۔
عبدالرحمن لوگوں سے ان راتوں میں مشورہ کرتے رہے حتی کہ وہ رات آ گئی جس کی صبح ہم نے عثمان کی بیعت کی تھی۔
مسور بیان کرتے ہیں کہ تھوڑی رات گزر جانے کے بعد عبدالرحمن نے میرا دروازہ اس زور سے کھٹکھٹایا کہ میری آنکھ کھل گئی۔
انہوں نے کہا:
آپ سو رہے ہیں جبکہ واللہ! ان راتوں میں میری آنکھ بھی نہیں لگی۔ آپ جائیے اور زبیر اور سعد کو میرے پاس بلا لائیے۔
میں ان دونوں کو بلا لایا۔
پھر انہوں نے کہا : علی کو بلا لائیے۔
میں انہیں بھی بلا لایا۔ وہ بہت رات گئے تک ان سے مشورہ کرتے رہے۔ پھر علی کے پاس سے اٹھے تو ان کے دل میں خلافت کی خواہش تھی۔ عبدالرحمن کو خدشہ تھا کہ اگر علی خلیفہ بنے تو اس سے امت میں اختلاف پڑ جائے گا
کیونکہ اکثریت عثمان کے حق میں تھی پھر عبدالرحمن نے کہا:
عثمان کو بلا لائیے۔
اس کے بعد وہ ان سے مشورہ کرتے رہے یہاں تک کہ صبح کی اذان ہو گئی۔
جب انہوں نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی تو یہ لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے۔
یہاں مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ موجود تھے، آپ نے انہیں بلوایا اور سردار لشکر کو بھی بلوایا۔
یہ سب لوگ وہ تھے جو حضرت عمر کے ساتھ حج میں شریک ہوئے تھے۔
جب سب لوگ جمع ہو گئے تو عبدالرحمن نے ایک خطبہ دیا اور کہا:
اما بعد۔ علی! میں نے لوگوں کے حالات پر غور کیا ہے تو دیکھا ہے کہ وہ عثمان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ہیں۔
اس لیے آپ اپنے دل میں میری طرف سے کچھ خیال نہ کیجیے گا۔
علی نے عثمان سے کہا
میں اللہ اور اس کے رسول اور آپ کے دونوں خلفاء کی سنت پر آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔
عبدالرحمن نے بھی بیعت کی اور پھر تمام لوگوں ، جن میں مہاجرین و انصار، سرداران لشکر اور عام مسلمان تھے، نے بیعت کی۔
رضی اللہ عنہم اجمعین
You must be logged in to post a comment.