ضلع کپواڑہ کے معزز عوامی نمائندگان اور ضلع انتظامیہ کے نام کھلا خط
🖊️ خادم محمد الطافنا
نارتھ کشمیر ہیڈ، سول سوسائٹی جے کےایل
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته،
میں یہ عرضداشت شمالی کشمیر کے باشعور عوام کی طرف سے آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں تاکہ ان مسائل کی جانب توجہ مبذول کروائی جا سکے جنہوں نے ہماری روزمرہ زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔ یہ صرف شکایت نہیں، بلکہ اصلاح اور بہتری کی نیت سے لکھی گئی ایک گزارش ہے۔
ضلع بھر میں بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ترقیاتی منصوبے صرف کاغذوں تک محدود رہتے ہیں جبکہ زمینی سطح پر نتائج نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عوامی فنڈز کے شفاف استعمال اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
حکومت کی نوکریاں محدود ہیں، جبکہ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ہمیں ہنر پر مبنی تعلیم، مقامی صنعتوں اور خود روزگاری کو فروغ دینا ہوگا تاکہ نوجوان خود کفیل بن سکیں۔
صنعتی اسکیمیں ناکامی کا شکار ہیں کیونکہ ان میں نہ تو بنیادی ڈھانچہ ہے، نہ ہی عملدرآمد کی سنجیدہ کوششیں۔ ان اسکیموں کو عوامی شراکت اور نگرانی کے تحت نئے سرے سے شروع کیا جانا چاہیے۔
کپواڑہ کے قدرتی مناظر اور ثقافتی ورثہ کو سیاحتی ترقی میں بدلا جا سکتا ہے، بشرطیکہ سڑکیں، صفائی، رہائش، اور تحفظ جیسے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لائی جائے۔
ریزرویشن پالیسیوں پر نظرثانی وقت کی ضرورت ہے تاکہ واقعی محروم طبقات کو ان کا حق دیا جا سکے اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
سرحدی علاقوں کے عوام سالہا سال سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان علاقوں میں ترقیاتی پیکیج، سڑکیں، سکول، اور اسپتال فراہم کیے جائیں تاکہ ان کا احساسِ محرومی ختم ہو۔
ڈیلی ویجرز کو ان کا حق دیا جائے۔ مستقل تقرری، بروقت تنخواہیں اور سوشل سیکورٹی جیسی سہولیات بنیادی حقوق ہیں، جنہیں مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ماحولیاتی توازن کو بچانے کے لیے شجرکاری مہمات، ندی نالوں کی صفائی، اور مقامی سطح پر ماحول دوست اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
غریب مریضوں کے لیے ادویات کی مفت یا سستی فراہمی، جن اوشدھی مراکز کو مضبوط بنا کر ممکن بنائی جا سکتی ہے، فوری طور پر عمل میں لائی جائے۔
دور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی مستقل تعیناتی کے لیے مراعاتی پیکجز اور سہولیات متعارف کرائی جائیں۔
سپر اسپیشلٹی اسپتالوں کا قیام ہر ضلع کا حق ہے تاکہ عام شہریوں کو بہتر علاج ان کے قریبی علاقوں میں ہی میسر آ سکے۔
بزرگوں اور خواتین کے لیے بینکوں اور سرکاری دفاتر میں علیحدہ کاؤنٹرز بنائے جائیں، تاکہ انہیں سہولت اور عزت کے ساتھ سروس دی جا سکے۔
راشن نظام میں بدعنوانی اور بدنظمی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ کرناٹک ماڈل جیسے شفاف طریقے یہاں بھی اپنائے جائیں۔
دیہی علاقوں کی سڑکیں ترقی کی بنیاد ہیں۔ ان کی مرمت اور نئی سڑکوں کی تعمیر کے بغیر کسی بھی اسکیم کی کامیابی ممکن نہیں۔
نشہ آور مواد کی لت سے نوجوان تباہ ہو رہے ہیں۔ انہیں بچانے کے لیے کونسلنگ، ری ہیبیلیٹیشن، اور والدین کی شمولیت پر مبنی پروگرام ضروری ہیں۔
مارکیٹ میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
آبی ذخائر جیسے جھیلیں، چشمے اور نالے ہماری قدرتی دولت ہیں۔ انہیں صاف رکھنا اور بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
غیر شادی شدہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، جہیز، فضول اخراجات اور سماجی دباؤ کو کم کرنے کے لیے بیداری، سادگی اور اخلاقی اصلاح ضروری ہے۔
امید ہے کہ آپ ان گزارشات کو سنجیدگی سے لیں گے اور زمین پر تبدیلی کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔ ہم سب کا مقصد ایک بہتر، خوشحال اور باوقار کپواڑہ ہے، جہاں ہر شہری کو انصاف، روزگار، اور عزت میسر ہو۔
رابطہ کریں
(یہ عرضداشت عوامی شعور، شفافیت اور جوابدہی کے لیے عام کیا جا رہا ہے)
Not able to correct some mistakes
You must be logged in to post a comment.