How can a poor person go up in anger?

غصہ کتنا خطر ناک زہر ثابت ہوتا ہے۔

 اکثر بات چیت کے راستے میں غصہ آتا ہے۔

 غصے کا تعلق اکثر ایسی صورت حال کے ادراک سے ہوتا ہے ۔

جو شاید درست بھی نہ ہو۔

 اس لیے غصہ ایک زہر ہو سکتا ہے۔

 جو آپ کو اندر لے جاتا ہے۔

فیصلہ اور تضحیک آپ کے اندر آ سکتی ہے۔ 

آپ کی سانسیں بدلنا شروع ہو جاتی ہیں ۔

اور اتھلی اور نمایاں طور پر تیز ہو جاتی ہیں۔

 یہ پیٹرن دماغ میں آکسیجن کی سطح کو کم کرتا ہے، جس سے چڑچڑاپن، جذباتی پن میں اضافہ ہوتا ہے ۔

اور الجھن اور طرز عمل جیسے دھمکی دینا، چیخنا یا مارنا پڑتا ہے۔

اس کے بعد آپ کا دماغ ناراض ہونے کی دوسری وجوہات تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔

 تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ کیسا محسوس ہوتا ہے۔

ان وجوہات کو تلاش کرنے سے جو دوسرے لوگوں کو برا یا غلط بنا سکتے ہیں ۔

دماغ یہ مانتا ہے کہ وہ اپنے اعمال، سوچ اور عقائد کو پورا کرتا ہے ۔

یا اسے درست ثابت کرتا ہے۔

اس کے بعد یہ توانائی کے کمپن قائم کرتا ہے ۔

جو ایک جیسے اور اسی نوعیت کے دوسرے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ 

اس کے بعد آپ کا دماغ لفظی طور پر ان مشتعل خیالات کے برعکس کسی بھی چیز کو فلٹر کرسکتا ہے۔

 جو اسے اب محسوس ہوتا ہے۔

اس مقام پر تمام مواصلات بند ہو گئے ہیں۔ 

دوسرا شخص اب دفاعی ہے اور دوسرے شخص کی طرف سے زبانی اور ممکنہ طور پر جسمانی حملوں کے خلاف حفاظت پر ہے۔ 

وہ اب اس شخص کو عقلی نہیں سمجھتے۔ 

وہ کسی بھی چیز کو کوئی اعتبار نہیں دیتے جو دوسرا شخص کہہ رہا ہے۔

 زیادہ تر صورتوں میں، وہ تحفظ کے موڈ میں ہوتے ہیں اور ناراض شخص کی کہی ہوئی باتوں پر بھی توجہ نہیں دیتے۔

اگر وہ خود غصے میں آجائیں تو غصہ بڑھتا ہے اور آگ میں مزید ایندھن ڈالتا ہے۔ 

وہ اب ماضی کے رویے تلاش کرتے ہیں۔

 جو ناراض شخص کے اعمال کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ 

اگر انہیں کوئی پچھلا ناراض رویہ یاد ہے۔

 تو یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ہے کہ دوسرا شخص ہمیشہ ناراض رہتا ہے۔

دونوں فریقوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ وقت نکالیں اور اس پر غور کریں۔

 کہ اصل مسئلہ کیا تھا۔

 اور وہ کیا کرنا چاہتے تھے۔ 

یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ کیا اہم مسائل ہیں اور کون سے اہم نہیں۔ 

مواصلات میں دینے اور لینے سے بہت دور جا سکتا ہے مسائل کو حل کرنا ہے۔

 وہ اس بات پر بھی غور کر سکتے تھے کہ غصہ کیسے اور کیوں پیدا ہوا۔ 

اس معاملے کے بارے میں غصہ کیا. 

اس کا ماضی کے کسی مسئلے سے کیا تعلق ہے۔

 مجھے اس کے ارد گرد کیا احساسات ہیں.

زیادہ تر معاملات میں، غصہ ایک ثانوی جذبہ ہے۔ 

یہ خوف کو چھپا سکتا ہے، چاہے یہ نقصان کا خوف ہو یا کسی صورت حال پر قابو پانے کی ضرورت ہو۔

 اس بات پر واضح ہونا کہ آپ نے کیوں رد عمل ظاہر کیا۔

 اور شدید احساسات کو حل کرنے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں ۔

اور آپ کو اس مسئلے پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ 

تب مواصلت افہام و تفہیم اور حل کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

اج کے دور میں یہ زہر کرونا وائرس کی طرح ایک دوسرے میں منتقل ہو رہا ہے۔

بلکل اسی طرح جیسے ایک انسان احتیاط کیے بغیر کروناؤائرس کا شکار ہو کر اپنے ارد گرد کے ماحول میں اپنا زہر منتقل کرتا ہے۔

اور یوں پورے معاشرے میں یہ زہر پھیل کر معاشرے میں بدامنی کو تقویت دیتا ہے۔

اج کے دور میں اگر آپ تنقیدی جملوں پر غور کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ مخالفین چاہیے وہ عام ہوں یا خاص سیاست دان ہوں یا کوی اور تنقیدی جملوں کی تلاش میں اتنا ہی وقت صرف کرتے ہیں۔

جتنا انہیں تعمیری سوچ کے لیے جملوں کی تلاش میں صرف کرنا چاہیے۔

سیاست دانوں نے اپنے ہمدردوں کی ایک ٹیم بنادی ہوتی ہے۔

جو مخالف سمت کے لیے عوام میں غصے کے زہر کو منتقل کرکے بظاہر اپنے لیے پاہنٹ سکورنگ کرتے ہیں ۔

جبکہ یہ ان کے اپنے مستقبل کے لیے تباہی کا باعث بن چکا ہوتا ہے۔

اگر پاکستانی سیاست ہی کو لے لیں تو پاکستان بننے کے بعد سے اب تک ہر انے والے کے لیے اقتدار چھوڑنے سے پہلے ہی اتنی مشکلات اسٹور کرلی جاتی ہیں کہ انے والاحقیقت میں اچھی سوچ لے کر اتا ہے۔

مگر جب مشکلات اختلافات اور غم و غصے کی زد میں اکر یہ بات کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

کہ میں تو بہت اچھے منصوبے لے کر ایا تھا ۔

مگر مجھے کام نہیں کرنے دیا گیا 

ہاں میرے پاس طاقت نہیں ہے۔

مافیاز طاقت ور ہیں۔

میں اج بھی کہتا ہوں کہ مجھے مکمل طاقت دو مجھے نظام بدلنے دو میں سب ٹھیک کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔

اور پھر غصے کے زہر کو مزید تقویت ملنے کے بعد اسمبلیاں توڑ دی جاتی ہیں ۔

اور نیا انے والا اپنے دور کا اغاز سابقہ حکومت پر الزامات سے کرتا ہے۔

اور یوں ہم اگے جانے کے بجاے پیچھے چلے جاتے۔

غریبوں کو اوپر اٹھانے کا وعدہ کرنے والے غریبوں کو زمین بوس کر کے خود ہوای راسے اوپر چلے جاتے ہیں۔

موجودہ حکومت نے بھی غریبوں کو اوپر اٹھانے کا اعلان کیا تھا مگر غربت نے غریبوں کو زمین کے نیچے جانے کے قریب کردیا ہے۔

اس مضمون کی وساطت سے میں قاہد محترم عمران خان سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ غریبوں کو زیادہ اوپر نہ لے جاہیں کیونکہ غریب بہت کمزور ہو چکے ہیں ۔

ایسا نہ ہو کہ اور سے نیچے اتے ہوے غریبوں کی ٹانگیں نہ ٹوٹ جاہیں ۔

اگر ایسا ہوا تو لنگڑے معاشرے کو خریدنے کے لیے ای ایم ایف تیار ہے۔

جو اپ کو مصنوعی ٹانگیں ہاتھ زبان تک پہنا کر قبضہ کر لے گا۔

اس لیے غریبوں کو زیادہ اوپر لے جانے کے بجاے انہیں بنیادی سہولیات فراہم کریں بڑے پروجیکٹ بند کردیں ۔

اور مہنگای پر کنٹرول کے اقدامات کو اؤپر اٹھا لیں۔

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author

Hi, I'm Riaz Gillani, a professional writer and content creator with a passion for crafting engaging stories and articles. With a strong background in research and writing, I deliver high-quality content that resonates with audiences. Let's collaborate and create something amazing! ✍️