کے ایچ خورشید اور قائداعظم who

قائد اعظم محمد علی جناح سری نگر کے دورے پر تھے کہ محترم کے ایچ خورشید صاحب کو پتہ چلا تو انہوں نے اپنے تایا جان سے اس خواہش کا اظہار کیا،  وہ انہیں ملاقات کیلئے قائد اعظم صاحب کے پاس  لے گئے آپ نے اپنا تعارف کروایا کہ میں  مسلم سٹوڈنٹس تنظیم کا بانی ھوں قائد اعظم صاحب بہت خوش ہوئے محترم خورشید صاحب نے گزارش کی کہ میں چاہتا ھوں کہ اگر مجھے آپ اجازت دیں تو میں روزانہ آپ کے پاس آیا کروں قائد اعظم صاحب نے اجازت دے دی۔ 

 

ایک دن ایسا ہوا کہ قائد اعظم صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری کی صحت خراب ھو گئی آپ نے اپنی خدمات پیش کیں تو قائد اعظم صاحب نے ان سے کام کروانا شروع کر دیا آپ کا لکھنے کا انداز بہت اچھا تھا قائد اعظم صاحب بہت متاثر ہوئے اور فرمایا کہ آپ میرے ساتھ رہیں اور یہ کام کریں آپ نے یہ آفر بخوشی قبول کر لی اور قائد اعظم کے ساتھ بمبئی جانے کیلئے تیار ھو گئے جب گھر بتایا تو آپ کے والد صاحب انہیں ساتھ لیکر قائد اعظم صاحب کے پاس آئے اسوقت آپ BA کے  طالب علم تھے انہوں نے قائد اعظم صاحب سے گزارش کی کہ بیٹے کو پڑھانا چاہتا ھوں ۔ قائداعظم صاحب نے فرمایا کہ فکر نہ کریں  پڑھائی بھی ساتھ چلے گی اس طرح آپ بطور پرائیویٹ سیکرٹری ساتھ ھو گئے ۔

 

# اسی پر قائد اعظم صاحب کے یہ تاریخی الفاظ ہیں کہ پاکستان میں نے ، میرے سیکریٹری  اور اس ٹائپ رائٹر نے بنایا ھے #

 

کے ایچ خورشید صاحب کا تعلق پڑھے لکھے گھرانے سے تھا آپ کے والد محترم مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر اور انکی اہلیہ بیگم ثریا خورشید کے والد ڈاکٹر تھے ۔ تحریک پاکستان کا کام زوروں پر تھا  کہ آپ کی والدہ محترمہ کی سرینگر وفات ہو گئی قائد اعظم صاحب نے آپ کو گھر جانے کا کہا تو خورشید صاحب نے فرمایا  کہ میں یہیں سے ایصال ثواب کر دیتا ہوں تا کہ تحریک کا کام جاری رکں سکوں جب پاکستان بن گیا تو قائداعظم صاحب نے انہیں گھر بھیج دیا آپ کو سرینگر پہنچتے ھی گرفتار کر لیا گیا  اور ایک سال سے زیادہ جیل میں رہے۔

 

اسی دوران  قائد اعظم صاحب کی وفات ہو گئی۔   آپ کا خاندان کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آ گیا ۔ قائد اعظم صاحب نے اپنی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو وصیت کی تھی کہ کے ایچ خورشید کا آپ نے خیال رکھنا ھے آپ نے ان پر پوری توجہ دی ان ھی کی خوائش پر آپ انگلینڈ گئے اور تعلیم حاصل کی ۔ کے ایچ خورشید صاحب کی اہلیہ محترمہ بیگم ثریا خورشید کراچی محترمہ فاطمہ جناح کے پاس رہیں اور انہیں بڑے. بڑے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ھوا آپ مصنفہ تھیں بہت ساری کتابوں کی آپ مصنف ھیں جن میں تاریخی معلومات ھیں ۔

 

کے ایچ خورشید صاحب نے اپنی زندگی بہت سادہ گزاری آپ قائد اعظم کے سیکرٹری ، دو بار آزاد کشمیر کے صدر، اہلیہ پارلیمنٹ کی ممبر ، مہاجر ھونے کے باوجود اس مرد درویش نے ایک مرلہ جگہ نہ آزاد کشمیر میں اور نہ پاکستان میں آلاٹ کروائی ۔ میرپور آزاد کشمیر لبریشن لیگ کا اجلاس اٹنڈ کیا اور لاھور واپسی کیلئے نکلے تو راجہ بسی محمد نے عرض کی کہ آپ گجرات میرے ساتھ چلیں انہوں نے جلالپور جٹاں گھر جانا تھا آپ گجرات سے لاھور جانے والی ویگن پر سوار ھو گئے۔

 

بدقسمتی سے ویگن گجرانوالہ شہر  سے پیچھے سیالکوٹ بائی پاس کے قریب ایک درخت سے ٹکرا گئی جس میں آپ کی موت واقع ھوئی شناخت ہوئی تو لوگ حیران رہ گئے کہ قائد اعظم صاحب کا پرسنل سیکرٹری  دو بار صدر رہنے والی شخصیت ویگن میں سوار اور جیب میں صرف 37 روپے تھے ۔ آپ کی ڈیڈ باڈی کو لاھور جس فلیٹ میں لے جایا گیا وہ فلیٹ بھی کرائے کا تھا۔ میں سمجھتا ھوں۔ کہ جب کوئی بھی اچھا بندہ دیانتدار لوگوں کی صحبت میں رہتا ھے تو مال و دولت اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ آپ کے جسد خاکی کو لاہور سے مظفر آباد لے جایا گیا تدفین کے انتظامات حکومت وقت نے کئے۔اس حادثے میں میرے گاؤں کے محمد ریاض صاحب بھی فوت ہوئے تھے۔ 

 

دعا ہے کہ اللہ پاک انہیں غریق رحمت کرے ، جنت میں اعلی مقام عطا کرے۔

آمین یا رب العالمین۔

 

عبدالرشید 

یونائیٹڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن 

لانگ آئی لینڈ نیویارک

 امریکہ

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

About Author

I am an article writer.