صدارتی نظام اور اسلامی نظام میں کیا فرق ہے؟
مارے کے لیے اور امیدواروں کا مقابلہ کیا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان مارے جانے والے ادوار میں بے ترقی اور پاکستان کی مکمل تباہی صرف اس کے نام نہاد امیدوار کے لیے ضروری ہے۔ لیکن پھر بھی ماریا دور میں صدارتی نظام ہرگز اسلامی صدارتی نظام نہیں ہے۔
اسلامی ریاستی نظام ایک خوفناک اور انتہائی متحرک نظام حکومت۔ یہ اتنا ہی غیر معمولی، ترقی پسند اور اتنا ہی ہم گیر ہے کہ جدید دور میں کوئی نظام اس کے قریب نہیں پھٹک سکتا، جلال غلام اس سیاسی جاہ کا تصور بھی۔ قریب ترین مثال تو وہ خلافت راشدہ کا نظام۔ چاروں خلفائے راشدین اگر آج کی زبان میں بات کی جائے تو اسلامی صدر کے پاس انتہائی قابل مخلص ٹیکنوکریٹس کی ایک بڑی ٹیم تھی، لیکن اس کا فیصلہ صدر کے ہاتھ میں ہی ہے۔ اسلامی صدر کا طریقہ اختیار کرنے کے لیے کہا، وہ آج ہمارے لیے قابل تقلید ہیں اور آپ کو بھی اگلے مرحلے میں آپ کے بزرگوں کی فہرست میں پوری قوم نے کہا۔ چن لوسیدنا عمرؓ کے نظام میں ایک قابل وجود۔ چھ قابل ترین بزرگ ہستیوں کا انتخاب کیا اور پھر ان میں سے حکمرانوں کا انتخاب پوری قوم نے کیا۔ یہ اعلیٰ ترین سلیکشن بھی تھی اور شفاف بھی یہ اتنا ہی جدید ترین نظام تھا۔
دین اسلام کا کمال ہے کہ یہ اس قدر متحرک ہے کہ ہر دور اور میرا جدید ترین۔ اس کے نظام سیاست و حکمرانی میں فوجی یا سول حکمران کا فرق سرے سے موجود نہیں ہے۔ تمام مسلمان سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کہ سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود سپہ سالار بھی تھے اور سیاسی لیڈر بھی۔ یا پھر صدر۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اقبال فرماتے ہیں کہ اگر مغرب کو لفظ اسلام سے چڑ ہے تو اسی اسلام کا دوسرا نام فقر غیور۔
اسلامی جمہوریہ نظام کی جانب سے بھی متحرک، صدر کی جانب سے اظہار خیال، نہ کہ انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہوئے۔ متحرک عوامی کا کہنا ہے کہ آپ کو جواب دیا جائے گا، اور پھر کام نہ کرنے کی صورت میں فوری معزول کیا جائے تو آپ کو یقین ہے کہ اسلام آباد میں منتخب سرے کوے ۔ نظام ہی نہیں
جس کا مفہوم ہے کہ ہم ہرگز کسی شخص کو حکمران نہیں بنائیں گے جو خود آپ کی سنت طلب کرے۔ اس طرح وہ کوئی مطلق العنان ڈکٹیٹر بن ہی نہیں سکتا، بلکہ اللہ کے دین کے محافظ کا کہنا ہے کہ اس کے با اختیار اور اعلیٰ ترین افراد کا انتخاب کریں۔
اسلامی ریاستی نظام میں صدر ملک کا سیاسی رہنما اور سپہ سالار اعلیٰ بھی۔ مسلح افواج کی قیادت، مشیروں اور عدلیہ کے انتخابات، وزیر اعلیٰ اور قومی اور ریاستی اداروں کے سربراہان کا نظریہ صدر کا اختیار ہے کہ جو اپنے مشیروں اور مشاورت سے دیکھیں، علامہ اقبالؒ نے اسلامی جمہوری نظام کی تشریح کی۔ کچھ اس طرح کہ یہ نظام حکومت جس میں جنیدی اور اردشیری ایک جگہ جمع ہے۔ یعنی ایسا شیر دل حکمران جو سیاسی اور طاقت کا استعمال کرتے ہیں اور اپنے قلب میں ایک روحانی وجود بھی رکھتے ہیں۔ ڈکٹیٹرشپ۔جن غلاموں اسلام کا روحانی سیاسی تصور کیا جانا اور سمجھنا ہی نہیں، ان پر سخت نظر، گونگے اور بہرے غلاموں سے یہ توقع کرنا کہ اس بحر بیکران کا خوف، ایک نامناسب امر اسلامی پارٹی کا نظام آزاد۔
ہم نے پاکستان کو اسی لیے کہا تھا کہ یہاں اسلام دائمی اور ابدی روحانی سیاسی و اقتصادی نظام کو نافذ کرنے کے لیے ایک نئی مثال قائم کرنے والے قائداعظمؒ نے پاکستان کو اسلام کی لیبارٹری قرار دیا۔ یہاں ہم ایک نیا امیدوار ہوں گے جو اس سے قبل میں کبھی نہیں گئے تھے۔ کیا گیا؟ گھسی استعمال کیا گیا سالٹا کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو آزمایا گیا۔ جو افراتفری آج کی حکومت میں کھیلی گئی ہے، اس سے بالکل واضح نظر آتی ہے کہ آپ کو کوئی موقع نہیں ملے گا اور نہ ہی حکومتی دور کے نظام کو گھسیٹا گیا ہے۔ نہیں کہ اب ہم اپنے دین کی طرف جائی ؟
اسلامی نظام حکومت میں کوئی آئینی یا آئینی نہیں ہوتا۔ قرآن و سنت، اجماع اور اجتہاد ایک متحرک اور انقلابی نظام سیاست کی بنیاد رکھنے والے ہیں کہ جس میں آزاد قومیں اپنے تقاضوں کے مطابق اپنی آزادی اور غیرت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کے انسانوں میں آزاد نہیں ہوتیں۔ کے لکھے ہوئے بوسیدہ دستور کے غلام۔کافروں نے بھی نظام حکومت سے سیکھا ہے۔انگلستان میں آج بھی دستور یا آئین نہیں ہے۔ سوچیں تو ذرا اپنی کیوں؟وہ کہتے ہیں کہ ہم روایات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تصور کے مطابق نظر آتے ہیں کہ جو اللہ نے اپنے آزاد بندوں کے لیے تجویز کیا ہے۔
جس کا مفہوم ہے کہ ہم ہرگز کسی شخص کو حکمران نہیں بنائیں گے جو خود آپ کی سنت طلب کرے۔ اس طرح وہ کوئی مطلق العنان ڈکٹیٹر بن ہی نہیں سکتا، بلکہ اللہ کے دین کا کہنا ہے کہ با اختیار اور ملک سے بہترین افراد کا انتخاب اسلامی صدارتی نظام کی طرف سے بھی متحرک ہو، صدر کی طرف سے دعا مانگی گئی۔ نہ کہ انتخاب کے نتیجے میں منتخب کریں۔ متحرک امیدوار کا یہ کہنا ہے کہ آپ کو جواب دیا گیا ہے کہ آپ کو جواب دیا جائے گا، اور پھر کام نہ کرنے کی صورت میں فوری معزول بھی کیا جائے گا، اگر آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ اسلام آباد کے نظام کو منتخب کرنے کے لیے منتخب کا سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تصور ہی موجود نہیں ہے۔ ہمارے نظام حکومت میں رائے عامہ کی رائے سے نہیں، قانون کے مطابق رائے شماری کے بارے میں رائے شماری کی مخالفت ہی کیوں نہ ہو۔ فریق کے تمام امور شوریٰ سے فیصلے کے خلاف
اسلامی نظام حکومت میں کوئی آئینی یا آئینی نہیں ہوتا۔ قرآن و سنت، اجماع اور اجتہاد ایک متحرک اور انقلابی نظام سیاست کی بنیاد رکھنے والے ہیں کہ جس میں آزاد قومیں اپنے تقاضوں کے مطابق اپنی آزادی اور غیرت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کے انسانوں میں آزاد نہیں ہوتیں۔ کے لکھے ہوئے بوسیدہ دستور کے غلام۔کافروں نے بھی نظام حکومت سے سیکھا ہے۔انگلستان میں آج بھی دستور یا آئین نہیں ہے۔ سوچیں تو ذرا اپنی کیوں؟وہ کہتے ہیں کہ ہم روایات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تصور کے مطابق نظر آتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ نظام کی جانب سے بھی متحرک، صدر کی جانب سے اظہار خیال، نہ کہ انتخابات کے نتیجے میں منتخب۔ متحرک امیدوار کا یہ کہنا ہے کہ آپ کو جواب دیا گیا ہے کہ آپ کو جواب دیا جائے گا، اور پھر کام نہ کرنے کی صورت میں فوری معزول بھی کیا جائے گا، اگر آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ اسلام آباد کے نظام کو منتخب کرنے کے لیے منتخب کا سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تصور ہی موجود نہیں ہے۔ ہمارے نظام حکومت میں رائے عامہ کی رائے سے نہیں، قانون کے مطابق رائے شماری کے بارے میں رائے شماری کی مخالفت ہی کیوں نہ ہو۔ سوال کے جواب میں تمام امور شوریٰ سے فیصلہ خوش ہیں، اور ہر مسلمان کو دے سکتا ہے۔
اسلامی نظام حکومت میں کوئی آئینی یا آئینی نہیں ہوتا۔ قرآن و سنت، اجماع اور اجتہاد ایک متحرک اور انقلابی نظام سیاست کی بنیاد رکھنے والے ہیں کہ جس میں آزاد قومیں اپنے تقاضوں کے مطابق اپنی آزادی اور غیرت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کے انسانوں میں آزاد نہیں ہوتیں۔ کے لکھے ہوئے بوسیدہ دستور کے غلام۔کافروں نے بھی نظام حکومت سے سیکھا ہے۔انگلستان میں آج بھی دستور یا آئین نہیں ہے۔ سوچیں تو ذرا اپنی کیوں؟وہ کہتے ہیں کہ ہم روایات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تصور کے مطابق نظر آتے ہیں کہ جو اللہ نے اپنے آزاد بندوں کے لیے تجویز کیا ہے۔
دین اسلام کا کمال ہی ہے کہ یہ اس قدر متحرک ہے کہ ہر دور اور زمانے میں جدید ترین ہے۔ اس کے نظام سیاست و حکمرانی میں فوجی یا سول حکمران کا فرق سرے سے موجود نہیں ہے۔ تمام مسلمان حکمران سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کہ سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود سپہ سالار بھی تھے اور سیاسی لیڈر بھی۔ یا پھر صدر۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ اگر مغرب کو لفظ ''اسلام سے چڑ ہے تو اسی اسلام کا دوسرا نام فقر غیور۔
اسلامی جمہوریہ نظام کی جانب سے بھی متحرک، صدر کی جانب سے اظہار خیال، نہ کہ انتخابات کے نتیجے میں منتخب۔ متحرک امیدوار کا یہ کہنا ہے کہ آپ کو جواب دیا گیا ہے کہ آپ کو جواب دیا جائے گا، اور پھر کام نہ کرنے کی صورت میں فوری معزول بھی کیا جائے گا، اگر آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ اسلام آباد کے نظام کو منتخب کرنے کے لیے منتخب کا سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تصور ہی موجود نہیں ہے۔ ہمارے نظام حکومت میں رائے عامہ کی رائے سے نہیں، قانون کے مطابق رائے شماری کے بارے میں رائے شماری کی مخالفت ہی کیوں نہ ہو۔ سوال کے جواب میں تمام امور شوریٰ سے فیصلہ خوش ہیں، اور ہر مسلمان کو دے سکتا ہے فلاحی سے مراد وہ تصور ہے جس میں ایک ریاست کو تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ریاستی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے ایک فلاحی ریاست اپنے جانی و مالی تحفظ کو ترجیح دیتا ہے اور اس کے لیے ٹھوس اقدامات کرتا ہے۔ کرتا ہے اسلامی نظام ِسیاست ریاست کی تشکیل کے لیے چندزریں اصول فراہم کرتا ہے جن کوملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
ریاست ِمدینہ کی تشکیل میں کارفرما چند اصولوں کامختصرجائزہ حسب ِذیل ہیں
حاکمیت ِاعلیٰ اورنیابت ِارضی کااصول
علمسیاست کی اصطلاح میں یہ لفظ اقتدار ِاعلیٰ یا دار اِمطلق کے معنی میں مستعمل ہے۔ کاحکم دوسرے کے لیے قانون کادرجہ ممکن نہیں ہے اپنے ارادہ کے سواکوئی خارجی امریاطاقت اس کے طاقت کوسلب یامحدود نہیں راستہ۔
دیگرنظامہائے سیاست میں کسی فرد ِواحدیاجماعت کوحاصل ہوتاہے لیکن حاکمیت کامفہوم اورخصوصیات اس امرسے مانع ہے کہ یہ مقام فرد ِواحدیاکسی جماعت کے لیے تسلیم کیاجائے۔ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق یہ مقام صرف باریٰ کوحاصل ہے۔
بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْء ٍ وَہُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْ
جس کے ہاتھ میں ہرچیزکی بادشاہی ہے اور وہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کوپناہ نہیں دے سکتا۔
فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ
جوچاہتاہے سوکرڈالتا۔
کائنات کی تخلیق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کا نظم تخلیق کی ہی مرضی سے فیصلہ کہ جس طرح مافوق العادۃ امور اللہ کی منشا کے مطابق فیصلہ پاتے ہیں اسی طرح ماتحت العادۃ اموراس لائق کی منشا کے مطابق فیصلہ اسی طرح طے کرنا چاہتے ہیں۔ حاکمیت واقتداراعلیٰ کے غلبہ اورنفاذ کی خاطرانسان کوبطورخلیفہ ونائب پیداکیاگیاہے جوجملہ قوانین کاپابنداورالٰہی احکام کے تنفیذکے لیے حاکم ِاعلیٰ کادیاہوااختیاراس کے حکم ومنشاکے کے مطابق وہاں سے اس اصول کوخلافت ِارضی سے تعبیرکیاجاتاہے جس سے کاوشادیاں شروع ہوتی ہیں۔
وَعَدَ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُم فِیْ الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ
اورجولوگ تم میں ایمانداری اورنیک کام کرتے رہے اللہ کاوعدہ کہ ان کوملک کاحاکم بنادے گاجیساکہ پہلے لوگوں کوبنایا۔
ایک کالم میں عمرؓ کی اسلامی فلاحی ریاست کا یقین ممکن نہیں اس کا خاکہ ضرور پیش کریں حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ اونٹ کی ننگی پشت پر دیکھیں۔ میں نے پوچھا عمرؓ کدھر کو ارادہ۔ آپؓ نے فرمایا صدقہ کا ایک گمشدہ اس کی تلاش میں نکلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مثال قائم کرنے والے آپؓ نے اپنے جانشینوں کو فروتر کہا۔ آپؓ نے فرمایا کہ علیؓ نے مجھے اس پر ملامت کرو خدا کی قسم جس نے محمد ﷺ کو نبی کا منصب بھی دے دیا اگر فرات کے ملک پر بھی میری رقم ضائع ہو گئی تو قیامت کے روز پرسش صبر[کنز العمال] حضوراکرم ﷺ اور خلفائے راشدین صدقات اور زکوٰۃ کے مال کے بارے میں کس قدر فکر مند رہتے تھے لیکن پاکستان کے حکمران اور ان کے رفقاء ہی بیت المال کو تلاش کرتے ہیں۔ ابوتمم جیشانیؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عمر و بن العاص کو یہ خط لکھا کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ تم نے ایک منبر بنایا۔ جب تم اس پر گورنر وعظ کرتے ہو تو لوگوں کی گردنوں سے بہت زیادہ لوگ ہوتے ہیں۔ تم یہ منبر توڑ دو اور گورنریوعظ کرو تاکہ تم سے زیادہ بلند نہ ہوجاؤ۔ پاکستان میں کتنے عالم، خطیب، دانشور اور سیاستدان مساوات کے سنہری اصول پر عمل کرتے ہیں۔
پاکستانی قیادت اس وقت دل میں پھنسی ہے کہ اسلامی جمہوری نظام کو کیسے لایا جائے جبکہ اس میں صرف قرآن کا سہارا لینا ضروری ہے۔
اس نظام حکومت ملک کے اندر خوشحالی اور ملک سے باہر پاکستان کی عزت ہو گی اور پوری دنیا میں امن قائم کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں اسلام ہی امن کا دین اسلام ایک دوسرے کی مدد اور قدر کی حفاظت کرتا ہے۔ کا درس دیتا ہے۔
You must be logged in to post a comment.