جی ڈی پی کے صرف %2میں ناقابل تسخیر دفاع.....
اگر مخصوص قطعہ زمین پرحاکیمت/ اقتدار اعلیٰ ، اس قطعہ زمین کی سرحدی سالمیت،اور آزادی نام کی کوئی چیز ہے تو اس کی قیمت بھی ہے آزادی فقط خون ہی نہیں دام بھی مانگتی ہے
وہ قومیں خوش قسمت ہیں جو اپنا وطن اور شناخت رکھتی ہیں اور اس شناخت کو قائم رکھنے کے لیے ہر ملک اپنے مخصوص قطعہ زمین کا دفاع کرتا ہے

اس کے لیے وہ اپنی ملکی پیداوار(جی ڈی پی) کا کچھ حصہ اپنے دفاع پر خرچ کرتا ہے
جسے کہ عمان (جی ڈی پی کا 12 فیصد) اپنے دفاع پر خرچ کرتا ہے
جبکہ
لبنان (10.5 فیصد)،
سعودی عرب (8 فیصد)
کویت (7.1 فیصد)،
الجیریا (6.7 فیصد)،
عراق (5.8 فیصد)،
متحدہ عرب امارات (5.6 فیصد)،
ترکی (2.1فیصد)،
آذربائیجان (4 فیصد)،
مراکش (5.3 فیصد)،
اسرائیل (5.2 فیصد)،
اردن (4.9 فیصد)،
آرمینیا (4.8 فیصد)،
مالی (4.5 فیصد)،
قطر 4.4 فیصد،
روس 3.9 فیصد،
امریکہ 3.4 فیصد
بھارت (3.1 فیصد) USD 76.6 billion

اور پاکستان جی ڈی پی کا محض 2.8 فیصد خرچ کرتا ہے (بمطابق سابق حکومتی ترجمان ڈاکٹر فرخ سلیم)
جبکہ 2022/23 مفتاح کے مطابق لگ بھگ 2%ہوگا۔
اور اسی 2.8 پرسنٹ میں پاک فوج نے دنیا میں 9ویں طاقت ور ترین فوج کا لوہا بھی منوایا
اسی دو پرسنٹ میں جہاز تیار کئیے اور انھی جہازوں سے دشمن کے دو طیارے مار گرائے ابھیندن کا گرایا گیا مگ 21 تو یاد ہی ہو گا
اسی دو پرسنٹ میں دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ لڑی
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی عالمی دفاعی اخراجات رپورٹ کے مطابق بھارت فوجی اخراجات کے حوالے سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جس کی نظریں ہر وقت پاکستان پر جمی رہتی ہیں. جہاں بھارت ہر سال دفاعی بجٹ بڑھاتا گیا وہی پاکستان ہر سال اسے کم کرتا چلا گیا
1970 کی دہائی میں پاکستان اپنے دفاع پہ جی ڈی پی کا 6.50 فیصد حصہ مختص کرتا تھا جسے بتدریج کم کرتے ہوے 2.8 تک لایا گیا۔

پاکستان آرمی دنیا کی 7ویں بڑی فوج ہے لیکن اس کے اخراجات کا شمار دنیا کے کم ترین فوجی اخراجات میں ہوتا ہے یہی نہیں پاک فوج کےایک جوان پر اُٹھنے والے اخراجات بھی دنیا میں کم ترین ہیں۔
امریکا ہر فوجی پر 392,000 ڈالر،
سعودی عرب371,000 ڈالر،
بھارت 42,000 ڈالر،
ایران 23,000 ڈالر
پاکستان 12500 ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے،
2019 / 20میں ملکی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر دِفاعی بجٹ منجمد رہا،
سال 2019 میں پاکستان کی معیشت کی دگرگوں حالت دیکھتے ہوے پاک فوج نے بجٹ میں اضافے کی بجائے 100 ارب روپے کی کٹوتی کی
2020 / 21میں بھی پاک افواج کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو ،ان سالوں میں روپے کی قدرمیں کمی اور افراطِ زر کے باوجود دِفاعی ضروریات کو دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے پورا کیا گیا،
مغربی اور مشرقی دونوں محاذوں پر بے مثال چیلنجز/ ہائبرڈ وار کے باوجود پاک فوج نے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا۔
2018ءکے بعدکولیشن سپورٹ فنڈ کی بندش کے باوجود دِفاعی اور سیکورٹی کی ضروریات کو ملکی وسائل سے ہی پورا کیا گیا ،

ردّالفساد کے اہداف اور دائرہ کار اور دیگر سیکورٹی اُمور میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ ٹِڈی دَل اور کرونا کی وَبا کے خلاف قومی مہم میں پاک فوج نے کلیدی کردار ادا کیا مگر سول انتظامیہ کی معاونت میں ان فرائض کی انجام دہی کے دوران کوئی الا¶نس نہیں لیا گیا،کرونا وَبا کے خلاف قومی جنگ میں دِفاعی بجٹ سے ہی 2.56ارب روپے صَرف کئے گئے۔لیکن اضافی ڈیمانڈ نہیں کی گئی۔
سال 2021۔22 میں دفاعی بجٹ کے لیے1373 ارب روپے مختص کیے گئے
یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ ان 1373 ارب میں فوج کو کیا ملتا ہے
دفاعی بجٹ کے دو حصے ہوتے ہیں پہلا تنخواہ آپریٹنگ اخراجات اور دوسرا دفاعی ساز و سامان کی خرید و فروخت اور دفاعی تیاری
اس 1373 ارب روپے دفاعی بجٹ میں
پاک آرمی کو 651 ارب 54 کروڑ روپے
پاک فضائیہ کو 291 ارب روپے
پاک بحریہ کو 148 ارب 73 کروڑ روپے
دفاعی بجٹ میں سے پاک آرمی کے آپریٹنگ اخراجات 108 ارب روپے،
ائیر فورس کو 38 ارب 3 کروڑ
پاک بحریہ کے 18 ارب 88 کروڑ روپے ہیں۔ دفاعی پیداوار اور سروسز کے لیے 278 ارب 41 کروڑ روپے دئیے گئے
یعنی دفاعی بجٹ کل بجٹ کا 16 فیصد رہا
اب اعتراض ہو گا کہ بری فوج کو زیادہ کیوں ملے
افواج پاکستان کی تعداد جس میں بری فوج چھ لاکھ 70 ہزار، فضائیہ 73 ہزار، بحری فوج 36 ہزار جبکہ سٹریٹجک پلان ڈویژن 21 ہزار ہے۔ کُل ملا کر آٹھ لاکھ ملازمین ہیں
اس لیے ہر ایک کا بجٹ تعداد کے مطابق ہوتا ہے

اسی بجٹ میں افغانستان اور ایران سے ملحقہ سرحدوں پر باڑ لگانا اور بارڈر پوسٹ کی تعمیرآپریٹنگ اخراجات جن میں ٹرانسپورٹ، پی او ایل، راشن، علاج اور ٹریننگ اسلحہ اور گولہ باروڈ کی مقامی خریداری اور دیگر خریداری شامل ہے
اسی بجٹ میں رہتے ہوے زرمبادلہ بچانے کے لیے پاک فوج نے ہتھیاروں میں خود کفالت حاصل کی مقامی طور پر میزائیل ٹینک، لڑاکا طیارے ، ایٹم بم کی مختلف اقسام، وار شپ ، گنز ،تیار کیں
بری، بحری اور فضائی افواج کے تمام شعبے اپنی ضرورت کا زیادہ سے زیادہ سامان پاکستان میں ہی تیار کررہے ہیں
پاکستان کے اندر تیار کیے جانے والے دفاعی ہتھیاروں میں جے ایف 17تھنڈر سب سے نمایاں ہے اور اس کو عالمی شہرت تب ملی جب اس کے ذریعے شہرہ آفاق آپریشن کر کے ابھی نندن کا جہاز گرایا گیا۔ پاکستان کے تیار کردہ ہتھیار بین الاقوامی سطح پر کوالٹی کے اعتبار سے بہترین جانے جاتے ہیں۔
کچھ دانشور فرماتے ہیں کہ
ہمیں دفاع یا فوج کی کیوں ضرورت ہے؟

اگر آپ کے ملک میں اپنی فوج نہیں ہوگی تو پھر آپ کی سرحد بھی نہیں ہو گی یا آپ کسی افغانی کے دست و گریباں ہونگے یا کسی پنڈت کے برتن مانجھ رہے ہونگے
منہ سے فائرنگ کرنی آسان ہے لیکن زمینی حقائق بہت تلخ ہیں
جب آپ کی سرحد افغانستان سے ملتی ہو جو کہ اٹک تک کا دعوے دار ہو
جب آپ کی سرحد کے قریب داعش اور جنگی جنونی گھسنے کے لیے تیار بیٹھے ہوں
جب دہشتگرد تنظیموں کے گرگے آپ پر پھٹنے کے لیے موقعے کی تلاش میں ہوں
جناب ذرا اپنے اردگرد خطے پر نظر دوڑائیے
جب عالمی طاقتیں آپ کو دبوچنے اور آپ کے ایٹمی اثاثوں کی تاک میں ہوں
جب بھارت جیسا ملک سرحدوں پر نظریں جمانے کے ساتھ پاکستان میں اربوں کی فنڈنگ صرف انتشار پھیلانے کے لیے کر رہا ہو۔ہندتوا کھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہا ہو
ایسے میں کون ہے جو سب اپنے سینے پہ جھیل جاتے ہیں
آپ کو کیا خبر کون نامعلوم آپ کے لیے راہ کی دھول ہو گیا آپ کو صرف چند لائنی خبر پڑھنے کو ملتی ہے اسلحہ گولہ بارود برآمد دہشت گرد ہلاک

یہ صرف ایک خبر نہیں سانحہ ٹل جانے کی نوید ہوتی ہے
آپ صرف ایک خبر سنتے ہو فلاں جنرل، برگیڈیر کرنل، میجر سپاہی لائسنس نائیک شہید ہو گیا
لیکن وہ صرف ایک شہید نہیں ہوتا ایک خاندان آپ پر قربان ہو جاتا ہے
کیا کوئی حملہ آور آپ سے پوچھے گا کہ آپ جیالے پٹواری یا انصافی ہو اس کی نظر میں آپ صرف پاکستانی ہو
شہید ہونا فوجی کے حلف میں شامل نہیں چند ہزار کے لیے کوئی اپنی جان قربان نہیں کرتا یہ جذبہ اسے اس کی عوام کی توقعات عطا کرتی ہیں ان لوگوں کی محبت میں جان قربان کر دینا جو اس پہ اعتماد کرتے ہوے اسے اپنی حفاظت سونپ دیتے ہیں.
فوج میں سپاہی سے جنرل تک کا سفر انتہائی کٹھن ہوتا ہے سینکڑوں شہید ہوتے ہیں جو غازی بچتے ہیں وہ اپنی جوانی بیوی بچوں کی بجائے جنگی محازوں پر گزار کر جسم پر زخموں کے تمغے لیے جب وہ بڑھاپے میں قدم رکھتے ہیں اس کے تجربے کو استعمال کرنے کے لیے فوج کی کمان سونپ دی جاتی ہے
جنرل اپنی فوج کا رہنما ہوتا اور فرنٹ سے لیڈ کرتا ہے اپنے آئیڈیاز منصوبہ بندی پر عمل درآمد کرواتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ فرنٹ لائن سے لڑتا ہے اگر رہنما نہ رہے تو فوج چاہے لاکھوں کی تعداد میں کیوں نہ ہو وہ سرنڈر کر جائے گی بکھر جائے گی

دشمن ہمیشہ فوج کی تعداد کی بجائے اس کے کمانڈر کو راہ سے ہٹانے کو بڑی کامیابی سمجھتا ہے
رہنما کا کام منزل تک پہنچانا ہے لیکن اس کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ رہنما اپنے مقصد کے حصول کے لیے کسی قربانی سے دریغ کرتا ہے
جو کہتے ہیں جنرل قربانیاں نہیں دیتے
لیفٹیننٹ جنرل حافظ مشتاق بیگ شہیدمیجر،جنرل افتخار جنجوعہ شہید
جنرل ثناء اللہ خان نیازی شہید میجرجنرل بلال عمر شہیدمیجر جنرل جاوید سلطان شہید ان کے بغض کا ثبوت ہیں
ہماری مسلح افواج کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان ائیرچیف تک دہشتگردوں کے خلاف بمباری میں شریک رہے ہیں۔
اس فوج میں سپاہی سے لیکر جنرلز تک نے سینے پہ گولیاں کھائیں
غیرت مند قومیں اپنے شہدا کو یاد رکھتی ہیں
جیسے انگریزوں کی بڑی تعداد اپنے سینے پر پوپی یعنی پوست کا سرخ پھول ہر وقت سجائے رکھتی ہے۔ یہ پھول پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجیوں کی یاد دلاتا ہے۔ انگریز اس پھول کو خرید کر اپنے کوٹ کے کالر یا شرٹ اور جیکٹ پر سجاتے ہیں اور اس پھول کی فروخت سے ہونے والی آمدنی جنگِ عظیم میں مارے جانے والے فوجیوں کے پسماندگان کی فلاح و بہبود اور یادگاروں پر خرچ کی جاتی ہے۔

You must be logged in to post a comment.