1
قال الم سورہ مريم : آیت 6
یَّرِثُنِیۡ وَ یَرِثُ مِنۡ اٰلِ یَعۡقُوۡبَ ٭ۖ وَ اجۡعَلۡہُ رَبِّ رَضِیًّا ﴿۶﴾
ترجمہ : جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کا بھی جانشین اور میرے رب ! تو اسے مقبول بندہ بنالے۔
شیعہ قرآن کی آیت سے وراثت انبیاء کی دلیل دیتے ہیں اور کہتے ہیں دیکہو تم سنی کہتے ہو انبیاء کی وراثث نہیں ہوتی حالانکہ قرآن سے اس کی وراثت ثابت ہے
شیعہ دلیل
👇👇👇👇👇👇👇👇

استدلال شیعہ
دیکھیں اس آیت قرآن میں حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا کی ہے کہ مجھے ایک وارث ہبہ کردیں جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو
مطلب انبیاء کی میراث تھی تبھی تو دعا کی ورنہ کیوں کرتے دعا
الجواب
👈 اس آیت مبارکہ سے یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ حضرت ذکریا علیہ السلام کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہوجانے کا خوف تھا اس لئے دعا فرما رہے ہیں کہ مجھے اولاد عطا فرما۔
👈 انبیاء کرام دنیا کی مال ملکیت سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت آگے ہے کہ وہ اس لئے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتہ داروں میں چلا جائے گا۔
👈 حضرت زکریا علیہ السلام عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے۔ ان کے پاس کونسی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لئے اس قدر پس و پیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء کرام ساری دنیا سے زیادہ مال سے بے رغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔
👈 صحیح احادیث اور اہل تشیع کی معتبر کتب سے بھی یہی ثابت ہے کہ انبیاء کرام کا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا اور جو کچھ وہ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے۔
👈 حضرت زکریا کا یہ فرمان کہ مجھے بیٹا دے جو میرا وارث ہو اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔
اور یہ تو ممکن ہی نہیں کہ حضرت زکریا کی اولاد پوری آل یعقوب کے مال و ملکیت کی بھی وارث ہو۔
👈 ایک اور آیت مبارکہ میں فرمان ہے کہ “وورث سلیمان داؤد” (سورت النمل 16) سلیمان داؤد کے وارث ہوئے۔ یعنی نبوت کے وارث، نہ کہ مال کہ ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔
👈 ایک دلیل یہ بھی غور طلب ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے ، سب میں ہے، تمام مذہبوں میں ہے پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ حضرت زکریا اپنی دعا میں یہ وجہ بیان کرتے۔
👈 ان سب دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ ورثہ کوئی خاص ورثہ تھا اور وہ تھا آل یعقوب کی نبوت کا وارث بننا ، کیونکہ حضرت زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب میں سے تھے۔
حضرت زکریا کو کس بات کا ڈر تھا؟
1️⃣ کیا اس بات کا ڈر تھا کہ رشتہ دار چونکہ بدکردار ہیں ، وہ میرے مال کو برے کاموں میں خرچ کریں گے، اور یہ کاروائی آپ کو پسند نہیں ہے تو اس اندیشے کا علاج تو نہایت ہی آسان تھا کہ سارا مال اللہ کی راہ میں خیرات کردیتے اور خدائی خزانے میں جمع کردیتے۔
2️⃣ جب از روئے شریعت خداوندی آپ کے رشتیدار مال کے وارث ہیں ، اور قانون خداوندی آپ کا مال آپ کے رشتیداروں کو دلاتا ہے تو پھر گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟
👈 یہ گھبراہٹ تو حقیقت میں احکام شرعیہ سے گھبراہٹ معلوم ہوتی ہے۔ جس سے اللہ عزوجل کے پیغمبر لاکھوں میل دور ہیں۔
حضرت زکریا کو ڈر اس بات کا ہے کہ میرے رشتیدار میرے بعد علم شریعت کو بھلانے میں اور دین اسلامی کی تبلیغ میں کوتاہی کریں گے تو یہ اندیشہ واقعی صحیح ہے اور انبیائے کرام کی شان کے مطابق ہے۔
حضرت زکریا کی دعا میں وراثت علم و شریعت مراد ہوگی اور اگر کوئی وراثت مال مراد لینے کی کوشش کرے تو آیت کے ماقبل کے خلاف کرے گا جو نظم قرآن کے مضر ہے۔
اگر اس آیت میں دعائے زکریا کے مابعد کو دیکھا جائے تو ارشاد ہوا ہے
“یحیی خذالکتاب بقوت”
اے یحیی اس کتاب کو زور سے پکڑو۔
بھائیو۔۔ حضرت یحیی ہی وہ مولود ہے جس کے لئے حضرت زکریا نے اپنے پروردگار سے درخواست کی تھی۔ اللہ تبارک و تعالی نے حضرت زکریا کی دعا کو حضرت یحیی کی صورت میں قبول فرمایا۔ اور حضرت یحیی کو حکم دیا کہ “اے یحیی اس کتاب توریت کو قوت سے پکڑلو۔
اگر حضرت زکریا کی مراد مال کی وراثت ہوتی تو اللہ تعالی حضرت یحیی کو حکم دیتے کہ اے یحیی اس مال کو قوت سے پکڑلو۔
یا یحیی خذالمال بقوت فرمایا جاتا۔ لفظ الکتاب کی جگہ لفظ المال مناسب ہوتا۔
شیعہ دلیل 2
اگر انبیاء کرام علیہم السلام کا مالی ترکہ تقسیم نہیں ہوتا تو حضرت دائود علیہ السلام کے حق میں قرآن مجید نے یہ کیوں فرمایا؟ وورث سلیمان داؤد… وارث ہوئے سلیمان دائود کے
وقال الذین سورہ النمل : آیت 16
وَ وَرِثَ سُلَیۡمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ وَ اُوۡتِیۡنَا مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۶﴾
ترجمہ :
اور داؤد کے وارث سلیمان ہوئے (١) اور کہنے لگے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے (٢) اور ہم سب کچھ میں سے دیئے گئے ہیں (٣) بیشک یہ بالکل کھلا ہوا فضل الٰہی ہے۔
معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی میراث جاری ہوتی ہے
الجواب
اس آیت میں نبوت و بادشاہت کی وراثت مراد ہے کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو وراثت علمی ملی تھی، مالی نہیں۔ چنانچہ اس کے دلائل یہ ہیں۔
👈دلیل: اہل تاریخ کا اجماع ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام کے کم و بیش انیس فرزند تھے (کتاب ناسخ التواریخ، جلد اول، ص 270 پر حضرت دائود علیہ السلام کے سترہ بیٹوں کے نام لکھے ہیں) اور قرآن نے یہ بتایا کہ ان میں سے صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کو میراث ملی اور باقی افراد محروم رہے تو اگر یہاں میراث سے مالی میراث مراد ہوتی تو ان کے تمام فرزندوںکو ملنی چاہئے تھی جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہاں میراث سے علم اور نبوت مرادہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کو تو ملی مگر ان کے دوسرے بھائی محروم رہے۔
👈دلیل: یہاں اگر میراث سے مالی میراث مراد لی جائے تو کلام الٰہی کا لغویت پر مشتمل ہونا لازم آتا ہے، کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ ہر بیٹا اپنے باپ کی میراث پاتا ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو خصوصیت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ ایسی صورت میں قرآن مجید کا یہ خبر دینا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت دائود علیہ السلام کے وارث ہوئے، بالکل لغو ہے۔ اور کلام الٰہی لغویت سے پاک ہوتا ہے لہذا ماننا پڑے گا کہ اس آیت میں میراث علمی ہی مراد ہے۔
دلیل: اس آیت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے فضائل و مراتب کا اظہار کیا گیا ہے اور اگر اس سے مراد وراثت مالی ہو تو یہ کوئی فضیلت کی بات نہیںہے۔ میراث تو آخر سبھی کو ملتی ہے۔ اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی کیا خصوصیت ہے۔ اس لئے یہاں میراث سے مراد علمی میراث ہی ہے اور اسی بات کو قرآن مجید نے مقام مدح میں بیان کرکے اس کا اظہار کیا ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام کے انیس بیٹوں میں سے یہ شرف صرف حضرت سلیمان علیہ السلام ہی کو حاصل ہوا کہ وہ منصب نبوت پر فائز ہوئے اور انہوں نے اپنے والد حضرت دائود علیہ السلام کی میراث نبوت کو پالیا چنانچہ آیت زیر بحث کے آخری جملے ’’ان ہذا الہو الفضل المبین‘‘ کی تفسیر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے نبوت اور بادشاہت سے کی ہے۔
تفسیر صافی جلد5 ص 366

امام جعفر صادق کی اس تفسیر سے واضح ہوا کہ اس آیت میں نبوت و بادشاہت کی میراث مراد ہے، مالی میراث مراد نہیں ہے، چنانچہ اس کی تائید آیت سے بھی ہوتی ہے۔
القرآن: وورث سلیمان داؤد قال یاایھا الناس علمنا منطق الطیر
ترجمہ: وارث ہوئے سلیمان دائود کے۔ پھر کہا سلیمان نے اے لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔
اور اﷲ تعالیٰ نے ہمیں ہر چیز کا علم دیا ہے۔ آیت کا یہ حصہ بھی اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت دائود علیہ السلام کی میراث میں علم اور نبوت ہی پایا تھا۔
محمد بن يحيى، عن سلمة بن الخطاب، عن عبد الله بن محمد، عن عبد الله بن القاسم، عن زرعة بن محمد، عن المفضل بن عمر قال: قال أبو عبد الله عليه السلام: إن سليمان ورث داود، وإن محمدا ورث سليمان، وإنا ورثنا محمدا، وإن عندنا علم التوراة والإنجيل والزبور، وتبيان ما في الألواح (1)، قال: قلت: إن هذا لهو العلم؟ قال: ليس هذا هو العلم، إن العلم الذي يحدث يوما بعد يوم وساعة بعد ساعة
ترجمہ: حضرت امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ سلیمان علیہ السلام وارث ہوئے داؤد علیہ السلام کے اور محمد علیہ السلام وارث ہوئے داؤد علیہ السلام کے اور ہم وارث ہوئے محمد علیہ السلام کے ، بیشک ہمارے پاس توریت زبور انجیل کا علم ہے اور الواح موسی کا بیان ہے ، راوی نے کہا علم اسی کا نام ہے فرمایا یہ وہ علم ہے جس کا تعلق ہر روز ہر گھڑی کے واقعات سے ہے۔
( اصول الکافی الشیخ الکلینی ج 1 ص 133)
دلائل شیعہ کتب سے
👇👇👇👇👇👇👇👇👇
باقی بات انبیاء کی میراث کی تو اس کی نفی ہم شیعہ کتب سے ثابت کرتے ہیں۔
🔴 حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا: جوشخص طلب علم کے لئے راستہ طے کرتا ہے اللہ اس کو جنت کی طرف لے جاتا ہے اور ملائکہ اپنے پروں کو طالب علم کے لئے بچھاتے ہیں کیونکہ وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور آسمان اور زمین کے رہنے والے حتٰی کے دریا کی مچھلیاں طالبعلم کے لئے استغفار کرتی ہیں۔
اور فرمایا کہ عالم دین کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چاند کی فضیلت ستاروں پر اور چاندنی رات پر اور علماء وارث انبیاء ہیں اور انبیاء نہیں چھوڑتے اپنی امت کے لئے درہم دینار، بلکہ چھوڑتے ہیں علم دین کو۔ پس جس نے اس کو حاصل کیا اس نے بڑا نصیبہ پایا۔
(اصول کافی اردو۔ جلد 1۔ کتاب العقل والجہل۔ صفحہ 76)

بصائر الدرجات:
اس میں مذکور ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور یہ اس لئے کہ انبیاء دینار اور درھم کی وراثت نہیں چھوڑتے اور ابنیاء کی وراثت احادیث ہیں جس نے ان میں سے کچھ لیا اس نے بڑا حصہ حاصل کیا
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی میراث علم اور احادیث ہے دینار درھم نہیں

🔴 حضرت علی علیہ سلام نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کا ترکہ کی میراث لوں گا۔۔۔۔۔۔ فرمایا: انبیاء نے کون چیز میراث چھوڑی ہے؟ عرض کیا آپ سے پہلے انبیاء نے کیا چیز میراث میں پائی؟ََ۔۔۔۔۔۔۔ فرمایاکتاب خدا اور اپنے نبی کی سنت
(تفسیر فرات اردو از فرات بن ابراہیم کوفی۔ حصہ اول۔ صفحہ 149)

🔴 امام جعفر صادق علیہ سلام نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء ہیں اور انبیاء نہیں مالک ہوتے درہم و دینار کے بلکہ وہ تو وارث ہوتے ہیں ان کی احادیث کے۔ پس جس نے ان احادیث سے کچھ لیا۔ اس نے کافی نصیبہ پا لیا۔
(اصول کافی اردو ۔ جلد 1۔ کتاب العقل والجہل۔ صفحہ 71)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ سے فرمایا:
اور دین میں فقیہ بننے کی کوشش کرو اس لئے کہ فقہا ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں انبیاء ورثہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑتے بلکہ ورثہ میں علم چھوڑتے ہیں۔
(من لا یحضرۃ الفقیہ اردو از شیخ صدوق۔ جلد 4۔ صفحہ 301)





لیں جناب شیعہ کتب سے دلائل
ان سب میں مذکور ہے کہ انبیاء علیھم السلام کی کوئی درھم دینار کی وراثت نہیں ہوتی ان کی میراث علم ہے
اور وہ جو بھی چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیھم السلام کی کوئی میراث نہیں ہوتی
باقی بات زکریا علیہ السلام کی تو کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اپنے مال کا وارث طلب کرے
بلکہ اس آیت میں نبوت اور علم کی میراث کا مطالبہ ہے۔
You must be logged in to post a comment.