انڈونیشیا میں بچے کی لاش نہ دینے پر موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیوروں کا ہسپتال پر دھاوا

  انڈونیشیا میں ایک ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ہسپتال واجبات کی عدم ادائیگی پر چھ ماہ کے بچے کی لاش اس کے والدین کو دینے سے انکار کر دیا ٹیکسی سروس کے چند ڈرائیور انسانی حقوق کے مشن کے تحت طاقت کے زور پر بچے کی لاش مردہ کھانے سے لے گئے

وردیان نامی شخص ان درجنوں موٹر سائیکل ڈررئیوروں میں سے تھے Caption

 

انڈونیشیا کے شہر پدانگ میں  وردیان ساہ نامی ایک شخش ان درجنوں موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیوروں میں سے تھے جنہوں نے یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا موبائل فون سے بنائی گئ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ ہسپتال کے مردہ کھانے سے بچے کی لاش کے ساتھ مردہ کھانے سے نکل رہے ہیں ۔

ہسپتال کی جانب سے والدین کو بتایا گیا تھا کی وہ  اپنے چھ ماہ کے بچے کی میت کو اس وقت تک نہیں لے جا سکتے جب تک ہسپتال کے تمام بل ادا نہیں کر دیے جاتے۔ اس پر موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیور نے ردے عمل ظاہر کیا۔ وردیان سہ نے یہ بھی بتایا کہ ہم اپنے بچے کو اس وقت تک نہین لے ج اسکتے جب تک ہم ہسپتال انتظامیہ کو 1774 امریکی ڈالر کے واجبات اد نہیں کر سکتے۔

 

سیکوٹی گارڈ میں ہمیں روکنے کی کوشش کی لیکن وہ ہار مان گئے کیوں کہ ہم توداد مین زیادہ تھے

سیکورٹی گارڈ نے ہمیں روکنے کی کوشش کی لیکن وہ جلد ہار مان گئے Caption

اںدونیشیا مین اس واقع کی ویڈیو وائرل ہونے سے ایک نئ بحث نے جنم لیا ہے کہ ان والدین کا کیا ہو گا جو ہسپتال کے بل ادا نہیں کر سکتے۔؟

ماضی میں ایسے کئ واقعات ہو چکے ہیں جن میں ہسپتال اور کلینکس نے بچوں کو اس وقت تک یرغمال بنا کے رکھا جب تک واجبات ادا نہیں کر دیے گئے۔ بچے کی والدہ دیوی سریا کا کہنا ہے کہ بچے کی سرجری کی گئ لیکن وہ 19 نومبر کی صبح تک مر چکا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ہسپتال چاہتا تھا کہ ہم بل ادا کریں۔ انتظامیہ عمل میں وقت لگ رہاتھا۔ ڈرائیور غصے میں تھے تو وہ طاقت کے زور پر لے گئے۔

بچے کی والدہ Caption

ہسپتال کی انتظامیہ نے معافی مانگتے ہوئے یہ علان کیا ہے کہ  آئیندہ وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

بعد میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ایک نمائیندے نے ہسمتال انتظامیہ سے معافی مانگ لی ہے۔

ڈرائیور الفیاندری نے کہا ہے کہ میں  اپنے ساتھیون کی طرف سے واقعے پر معافی مانگتا ہوں۔ اور ہم کوشش کریں گے کہ ہسپتال کی ساکھ بحال کر سکیں ۔ ہم طریقہ کار سے ناواقف تھے۔اس مین بہت وقت لگ رہا تھا، اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا۔

 

 

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

Related Articles
Dec 3, 2019, 11:45 PM - Deeganta Roy
Dec 3, 2019, 11:41 PM - Uday kiran reddy katam
Dec 3, 2019, 11:35 PM - Harshit Chauhan
Dec 3, 2019, 11:32 PM - Sanjiv kumar
About Author